عبقری تسبیح خانے میں ہونے والے ذکر بالجہر کا ثبوت

تحریر : مولانا نیاز محمد صاحب، فاضل جامعہ مظاہر العلوم، آراے بازار، لاہور محترم قارئین عبقری تسبیح خانے میں اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق سالہا سال سے قال اللہ وقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اللہ ھو اللہ ھو کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ جیسا کہ اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں جا بجا ذکر الہی کرنے کا حکم موجود ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی ذکر کی اہمیت اور فضیلت ملتی ہے۔ لیکن کیا آہستہ آواز میں ذکر کرنے کے علاوہ بلند آواز میں بھی کیا جاسکتا ہے؟

عظیم مفسر و محدث حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” نتيجة الفكر في الجهر بالذکر “ علامہ عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ” سباحة الفكر في الجهر بالذكر ، اور مولانا سرفراز خان صفدر علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب حکم الذکر بالجھر “ میں قرآن وسنت کی روشنی میں بلند آواز سے ذکر کرنا جائز قرار دیا ہے۔ جو لوگ ذکر بالجہر کو بدعت کہتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ ان کتابوں کا ایک مرتبہ مطالعہ ضرور کریں اور لاعلمی یا بد گمانی کی وجہ سے مسلمان بھائیوں کو بدعتی کہنے سے باز آجا آجائیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت ” فاذکر و الله كذكركم آباء کم اواشد ذکر کی تفسیر میں لکھتے ہیں : جان لو کہ اس آیت مبارکہ کی روشنی میں ذکر بالجہر شرعی طور پہ جائز ہے، کیونکہ اس کی دلیل میں خود رب تعالیٰ کا فرمان موجود ہے۔

اسی طرح حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ بھی اسی آیت کریمہ سے ذکر بالجہر پر استدلال کرتے ہیں


حضرت علامہ عبدالحی لکھنوی علیہ الرحمہ نے ذکر بالجہر کے جائز ہونے کی دلیل میں 48 احادیث نقل فرمائی ہیں اور آخر میں لکھا ہے کہ ان تمام صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر بالجہر میں کوئی برائی نہیں، بلکہ ان روایات میں سے بعض ذکر بالجہر کو جائز اور بعض مستحب ثابت کر رہی ہیں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025