ہر مہینے کی آخری اتوار کو تسبیح خانہ لاہور میں اسمِ اعظم کا دم کیا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں بیماروں کو شفاء، دکھی لوگوں کو سکھ، پریشان حال لوگوں کو اللہ کے فضل و کرم سے عافیت، برکت اور صحت ملتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دم کرنا آپ ﷺ کی مستقل سنتِ مبارکہ، تمام صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرامؒ کا روزمرہ کا معمول تھا چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:
(1) آپ ﷺ خود کو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دم فرمایا کرتے تھے (بحوالہ بخاری شریف، ناشر قدیمی کتب خانہ)۔
(2) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اٹھنے کے بعد تین مرتبہ پھونک مار دیا کرے (بحوالہ صحیح بخاری)۔
(3) اماں عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں آپ ﷺ کے مرض الوفات میں آپ ﷺ پر معوذات پڑھ کر دم کیا کرتی تھی۔ بخاری شریف ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ جب کسی پر دم فرماتے تو اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے چند کلمات ادا فرماتے (بحوالہ صحیح بخاری)۔
(4) حضرت ابوسعید خدریؓ نے سفر کے دوران ایک بیمار شخص کو بکریوں کے ریوڑ کے عوض دم کیا تو اللہ کے کرم سے اسے شفاء مل گئی (صحیح بخاری)۔
(5) جب آپ ﷺ بیمار ہوئے تو جبریل امینؑ آپ ﷺ کو کچھ کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (صحیح مسلم) وضاحت: حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد بانڈوی صاحب، حضرت مولانا شاہ محمد حفظ الرحمن صاحب، حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی صاحب اور ان جیسے ہزاروں علمائے کرامؒ دم کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
(تحریر مولانا خلیل الرحمن، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد)
محترم قارئین! آپ حضرات ان چند مثالوں سے بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ تسبیح خانہ لاہور میں ہونے والا ماہانہ دم توکل کے عین مطابق ہی ہے کیونکہ اس میں ہر بیماری دُکھ تکلیف میں اللہ کے کلام ہی کی طرف نظر جاتی ہے۔ اللہ ہمیں اسلاف پر اعتماد عطا فرمائے۔ آمین
