(مولانا قاری حافظ عطاء اللہ صاحب، جامعہ اشرفیہ، لاہور)
’’آپ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا‘‘ وہ آنکھیں کتنی خوش نصیب ہیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ خواب میں زیارتِ النبی ﷺ نصیب ہو جائے۔۔۔! اور وہ وجود کتنے ہی سعادت مند ہوں گے جنہیں حالتِ بیداری میں زیارتِ باسعادت بار بار نصیب ہوتی ہے ایسی سعادت مند ہستیوں میں آج کے دور میں علامہ لاہوتی پُراسراری صاحب بھی ہیں، تاریخ کے اوراق سے چند واقعات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوستوں کیلئے پیشِ خدمت ہیں:
حضرت عبداللہ بن موسیٰؒ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن صالحؒ کے انتقال کے بعد میں ان کے بھائی شیخ حسن بن صالحؒ کے پاس تعزیت کیلئے آیا تو مجھے وہاں رونا آ گیا وہ کہنے لگے کہ رونے سے پہلے ان کے انتقال کی کیفیت سن لو، کیسے لطف کی بات ہے کہ جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی مجھ سے پانی مانگا جیسے ہی میں پانی لے کر آیا تو فرمانے لگے میں نے تو پانی پی لیا میں نے دریافت کیا کہ کس نے پلایا؟ تو فرمانے لگے حضرت محمد ﷺ فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے تھے، انہوں نے مجھے پانی پلا دیا۔ مجھے خیال ہوا کہ کہیں غفلت میں نہ کہہ رہے ہوں اس لئے پوچھا کہ فرشتوں کی صفیں کس طرح تھیں؟ بولے اس طرح اوپر نیچے تھیں اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے اوپر کر کے بتایا۔
(فضائلِ صدقات حصہ 2 ص 128، مصنف شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا، کتب خانہ فیضی)۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بالمشافہ حالتِ بیداری میں اور خواب میں آپ ﷺ سے بہت سی احادیث سنیں اور بعض کی اصلاح بھی فرمائی جنہیں آپ نے ایک کتاب ’دُرِّثمین‘ کے نام سے شائع کیا۔ (ماہنامہ، الفرقان ولی اللہ نمبر)
شیخ محمد بن ابی الحمائلؒ کثرت سے بیداری میں حضور ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا کرتے تھے یہاں تک کہ جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ میں اسے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کر لوں اس کے بعد اپنا سر گریبان میں لے جاتے اور پھر فرماتے کہ حضور ﷺ نے اس بارے میں یہ فرمایا ہے پھر ویسا ہی ہوتا جیسا فرماتے کبھی اس کے خلاف نہ ہوتا تھا۔
(سعادت دارین حصہ 2 ص 438)
محترم قارئین! بطورِ برکت یہ چند واقعات لکھے گئے جس سے آپ کو علامہ صاحب کے کمالات کا یقین ہو گیا ہو گا، اللہ کریم ہم سب کو زیادہ سے زیادہ عبقری کے فیض کو بانٹنے والا بنائے اور ’اکابر پر اعتماد‘ نصیب فرمائے۔
