(محمد قاسم متین، ایم فل، اسکالر، پنجاب یونیورسٹی)
اس پرفتن دور میں ابنائے زمانہ کو دو حرف کی شناسائی حاصل ہونے لگے تو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھ کر مسلم اور طے شدہ مسائل پر طبع آزمائی کرنے لگتے ہیں اور خودی کے کے خول میں بند ہو کر ’’اکابر‘‘ پر بدگمانی کو جدید تحقیقات کا حصہ سمجھتے ہیں۔۔۔! خود میری ذات بھی اسی خول میں بند تھی ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج نے میرے اندر سے اس بے اعتمادی کے زنگ کو کھرچ کر ایسی بے حسی سے بچایا ہے جس کا احساس شاید مجھے آخری دم تک نہ ہوتا۔۔۔! اور میں ’’اکابر‘‘ کے فیوض و برکات سے مستفید نہ ہو سکتا۔
میں بطور ایم فل اسکالر ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے ’’اکابر‘‘ سے جڑنے کے بعد اپنے من میں ’’اکابر‘‘ کیلئے محبت کے جو چشمے پھوٹتے دیکھتا ہوں اس کو الفاظ کا پیراہن نہیں دے سکتا۔ اس پیج کو دیکھنے سے پہلے جو قول و اقوال دل اثر نہیں کرتے تھے یعنی ضعیف معلوم ہوتے تھے اب وہ صرف جسم پر ہی نہیں بلکہ روح کو بھی ہر پل جھنجوڑ رہے ہیں اور آج مجھے آپ ﷺ کے اس ارشادِ پاک کی حقیقت سمجھ میں آئی
’’کہ برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے‘‘
میرے مشاہدے کے مطابق آج ہماری زبوں حالی کی وجہ میرے جیسے غافل لوگ ہیں جو کہ اپنے ’’اکابر‘‘ سے بیزار ہیں ۔۔۔! ایسے دوستوں سے میں نہایت ہی ادب کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ ’’اکابر پر اعتماد‘‘ پیج کے ذریعے اپنے اندر سے بدگمانی، شک جیسی بیماریوں کا علاج کریں۔
یہاں پر مجھے علامہ اقبال کا شعر یاد آتا ہے جو کہ انہوں نے شاید اسی کرب و الم سے لکھا ہے کہ اے مسلمان تیری بربادی، تیری غلامی کا نتیجہ ’’اکابر‘‘ سے ہٹنا، اور فرقوں میں بٹنا ہے۔۔۔!
ہم کون ہیں کیا ہیں باخدا یاد نہیں | اپنے اسلاف کی کوئی ادا یاد نہیں ہے اگر یاد تو کافر کے ترانے ہی بس | ہے اگر نہیں یاد تو مسجد کی صدا یاد نہیں
آخری بات: سوشل میڈیا پر موجود اپنے تمام دوستوں سے التماس کرتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اپنے ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اشد ضرورت ہے وگرنہ قدم قدم پر گمراہی کے اڈے ہیں کسی بھی جگہ انسان پھسل سکتا ہے خود بھی ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کا دامن تھامے رکھیں اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تلقین کرتے رہیں۔ ’’اکابر‘‘ کی تحقیقات و تعلیمات سے کبھی انکار و انحراف نہ کریں اور نہ کبھی ان کے دامن کو چھوڑیں کیونکہ ہمارے علم وفن، دیانت وامانت کی انتہا بھی ان کے علم وحکمت کی ابجد کو نہیں چھو سکتی، ’’اکابر پر اعتماد‘‘ میں ہی ہماری نجات ہے اور اسی میں ہمارے لیے خیر و برکت ہے۔۔۔!
