(مولانا محمد عمر صاحب، بھکر)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مخلوق تکلیف، پریشانی، مصیبت سے بچ جائے اور اسے راحت، سکون اور عافیت نصیب ہو، یہی وجہ ہے کہ آپ اکثر اپنے دروس میں اسی خیر خواہی کو بیان کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل آپ نے لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا کہ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک میت کو غسل، کفن نہ دے دیا جائے تو اس وقت تک میت کو ایصالِ ثواب کرنا یا اس کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرنا غلط ہے۔۔۔! آپ نے فرمایا ایصالِ ثواب میں دیر نہیں کرنی چاہیے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اب سب سے زیادہ ضرورت اسے اعمال کی ہے۔ افادۂ عام کیلئے اہل علم حضرات کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں:
بنوری ٹاؤن کا فتویٰ:
میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآنِ مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے زبانی تلاوت کی جائے، اور اگر میت کو کپڑے سے ڈھانکا نہ گیا ہو تو پھر غسل دینے سے پہلے میت کے قریب تلاوت کرنا مکروہ ہے، البتہ تسبیح وغیرہ پڑھی جا سکتی ہے۔
اور میت کو غسل دینے کے بعد خواہ میت کے قریب تلاوت کی جائے یا دور، بہر صورت جائز ہے، نیز میت جس کمرے میں ہو اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں بیٹھ کر تلاوت کرنا بھی بلا کراہت جائز ہے۔
(فتاویٰ شامی 2/ 193، کتاب الصلوٰۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ط؛ سعید) فقط واللہ اعلم۔ (فتویٰ نمبر: 144012201302)
علامہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب کا فتویٰ:
میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے قریب قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر میت کو مکمل کپڑے سے ڈھانک دیا جائے تو اس کے پاس قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ قرآنِ مجید اٹھا کر تلاوت کی جائے یا بغیر اٹھائے محض زبانی تلاوت کی جائے۔
(بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل)
دارالعلوم کا فتویٰ:
میت کو غسل دینے سے پہلے اُس کے پاس آہستہ قرآن پڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔
(فتویٰ نمبر 146655)
محترم قارئین! تسبیح خانہ کا پیغام سراسر محبت اور خیر خواہی کا ہے جسے تسبیح خانہ سے جڑا ہر شخص جانتا ہے اور اس کے ہر ہر پیغام کے پیچھے قرآن و سنت اور تعلیماتِ اکابرؒ کی مہر ثبت ہے۔۔۔!
