( مولانا محمد عمر فاروق صاحب، فاضل : جامعہ مدرسہ احیاء العلوم بجکر )
سبیح خانہ لاہور ) ، موتی مسجد ( شاہی قلعہ، لاہور ) ، روحانی منزل (مری) اور گوشہ درود وسلام ( کراچی ) میں برکات، انوارات اور قبولیت دعا واقعی ایک سچی حقیقت ہے اور کیوں نہ ہو۔۔۔؟ جس جگہ کروڑوں اربوں مرتبہ اللہ تبارک و تعالی کا ذکر اور درود پاک کی محافل ہوں اللہ والوں کی کی نشست و برخاست ہو تو ایسی جگہ قبولیت نہیں ہوگی تو اور کہاں ہوگی۔۔۔ !ہمارے بڑوں کی زندگی میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جہاں وہ کسی خاص جگہ سے تبرک اور برکت حاصل کیا کرتے تھے ۔ (1) ۔ حضرت شاہ نفیس الحسینی شاہ صاحب نے فرمایا : حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کا انتقال شملہ پہاڑی کے قریب حاجی عبد المتین صاحب کی کوٹھی میں ہوا میں حضرت کے وصال کے بعد وہاں گیا تو وہی روحانیت محسوس ہوتی تھی اب بھی جی چاہتا ہے کہ وہ جگہ جا کر دیکھوں کچھ وقت وہاں گزاروں وہاں انوارات محسوس ہوتے ہیں۔ ایک اور موقع پر فرمایا کہ بزرگوں کے انوارات قائم رہتے ہیں ختم نہیں ہوتے، چنانچہ دہلی میں ایک جگہ گوالوں کا ڈیرہ ہے وہاں گوہ موت ( پاخانہ وغیرہ) سے جگہ بھری ہوئی ہے کچھ اللہ والے وہاں گئے تو انہیں وہاں انوارات محسوس ہوئے وہ حیران تھے کہ ایسی جگہ میں انوارات۔۔۔؟ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہاں حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی درس حدیث دیا کرتے تھے۔ کتاب: بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 170 ، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور ) امام شافعی فرماتے ہیں حضرت امام موسی کاظم کی قبرتریاق مجرب ہے۔ ابن حجر کی کئی قلائد میں امام شافعی سے نقل کیا کہ میں امام ابوحنیفہ کی قبر سے برکت حاصل کرتا ہوں اور جب مجھے کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو امام ابوحنیفہ کی قبر پر دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے دعا کرتا ہوں تو میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ واقدی نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول
اللہ سنی شمالی تم سے روایت کیا ہے کہ میں شہداء احد کی قبروں پر جا کر دعا کرتی ہوں۔
( کتاب : المہند اور اعتراضات کا علمی جائزہ، صفحہ 66 تالیف : مولانا محمد الیاس گھمن ، ناشر : دارالایمان )
سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر کی فرماتے ہیں کہ جس جگہ اولیائے کرام رہتے ہیں اس جگہ ایک خاص برکت ہوتی ہے۔ حضرت مولانا شیخ محمد تھانوی فرماتے ہیں کہ جب حضرت حاجی صاحب حج پر تشریف لے گئے تو میں ان کی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتا
بہت انوارات محسوس ہوتے یہ بات دوسری جگہ نصیب نہ ہوتی یہ میرا مشاہدہ ہے۔
الا فازات الیومیہ، حصہ 1 ص 110 بحوالہ میر کارواں ص 184 ناشر : تالیفات اشرفیہ )
محترم قارئین ! ان چند مثالوں سے تسبیح خانہ اور اس کی شاخوں میں برکات کا فلسفہ آپ کو سمجھ میں آ گیا ہوگا۔ اللہ کریم اکابر کی برکات ہم سب کو ساری زندگی کیلئے عطا فرمائے۔ اور یہ اس وقت مل سکتی ہیں جب ہمیں اکابر پر اعتماد ہوگا۔۔۔!
