شیخ الوظائف نے مخدوم صاحب کی قبر پر پانچ گھنٹہ مراقبہ کیوں کیا۔؟

( حافظ عطاء اللہ صاحب، عبر سلطان )


شیخ الوظائف ابھی کچھ عرصہ قبل مکلی قبرستان میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی ” کے مزار پر تشریف لے گئے اور وہاں تپتی دھوپ میں آپ نے پانچ گھنٹے کا مراقبہ کیا جو کہ ہمارے تمام اکا بڑ کی ترتیب ہے اہل اللہ کی سوانح میں سے چند واقعات کا انتخاب اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے:

جب حضرت مدنی کی وفات ہوئی تو دار العلوم میں تعزیتی اجلاس ہوا، اس میں سب کا بر تشریف لائے ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا صاحب بھی تشریف لاے اور فرمایا : ” اجلاس میں تو سب حضرات موجود ہیں میں حضرت کے پاس حاضری دوں گا یہ کہہ کر قبرستان چلے گئے، ایوب صاحب کہتے ہیں کہ میں وہاں پہلے سے بیٹھا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ حضرت شیخ الحدیث صاحب تقریبا ساڑھے تین گھنٹے تک مراقب رہے، دار العلوم سے آپ کو لینے کے لیے چار بزرگ آئے ، مولانا محمد میاں صاحب، مولانا حفظ الرحمن صاحب ، مولانا عتیق الرحمن صاحب، مولانا سعید احمد اکبر آبادی صاحب رحمہم اللہ سب سے پہلے مولانامحمد میاں صاحب گاڑی سے اترے اور شیخ الحدیث صاحب سے عرض کیا کہ حضرت جناب کا انتظار ہورہا ہے مگر آپ نے کوئی توجہ نہیں دی، پھر مولانا عتیق الرحمن صاحب اترے اور انہوں نے بھی یہی عرض کیا مگر اس پر بھی آپ نے کوئی توجہ نہیں دی، پھر مولانا حفظ الرحمن صاحب اتر کر آئے اور آپ نے کہا کہ حضرت ! جناب کے سب منتظر ہیں چلیے، اس پر شیخ نے سر اٹھایا، میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہورہا ہے اور آپ فرما رہے ہیں ”مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے حضرت مدنی کے چہرہ کو دیکھا ہے“۔

مفتی محمود حسن گنگوہی سے سوال کیا گیا کہ ٹیپو سلطان صاحب ریش تھے، یا نہیں ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان کا مجسمہ بنارکھا ہے، وہ تو بغیر ریش کے ہے، البتہ ایک مرتبہ حضرت مدنی ان کی قبر پر گئے اور بہت دیر تک مراقب رہے، بعد میں فرمایا کہ ان کے چہرہ پر سنت تھی ، پھر فرمایا ( حضرت قدس سرہ نے ) کہ ٹیپو سلطان دو گزرے ہیں، ایک دادا، ایک پوتا، دونوں انگریز کے خلاف تھے۔

حضرت مولانا پیر ذالفقار صاحب نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے کسی قبرستان میں مراقبہ کیا۔کسی نے پوچھا، حضرت! آپ نے قبرستان والوں کو کس حال میں پایا؟ فرمایا، ان کو اپنی عقلیت پر اتنی حسرت ہے کہ اگر ان کی یہ حسرت لوگوں پر تقسیم کریں تو وہ سب پاگل ہو جائیں۔ میرے دوستو ! جمعتہ المبارک کو قبرستان میں جانا مسنون ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ انسان وہاں جا کر اس شہر خاموشاں سے عبرت حاصل کرے۔

حضرت علامه جائی (متوفی 898ھ ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ ابوالحارث اولائی نے بیان فرمایا کہ میں نے حضرت ذوالنون مصری کی بہت شہرت سنی تھی۔ چند مسئلوں کے حل کرنے کے لیے میں نے ان کی زیارت کا قصد کیا۔ جب میں مصرف پہنچا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ ان کا تونل انتقال ہو گیا۔ یہ کن لر میں ان کے مزار پر گیا وہاں پہنچ کر مراقبہ میں بیٹھ گیا کچھ دیر کے بعد مجھے نیند آ گئی خواب میں ان کا دیدار ہوا اور مجھے جو مشکل مسئلے درپیش تھے وہ میں نے ان سے دریافت کئے انہوں نے ان سب کا مجھے جواب مرحمت فرمایا (نفحات الانس صفحہ 193)


محترم قارئین ! عبقری اور تسبیح خانہ نے آج تک اللہ کریم کے فضل سے کوئی بھی ایسا عمل شائع نہیں کیا جس کی سند قرآن وسنت اہل بیت و صحابہ کرام اور اکابرین امت کی طرف نہ ہو۔۔۔ حکیم الامت نے فرمایا ہمیں چاہیے کہ علمی تحقیقات پر زور دینے سے زیادہ فکرا کا بر کے ادب اور احترام کی کرنی چاہیے-

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025