شیخ الوظائف تسبیح خانہ میں اکثر مراقبہ کی کیفیات کا ذکر فرماتے ہیں جس پر کئی کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا مراقبہ سے بھی کچھ معلوم ہوتا ہے؟ حضرت خواجہ صاحب فضل علی قریشیؒ کے حالات و واقعات میں درج ہے کہ:
جب خواجہ صاحب فضل علی قریشیؒ حضرت مولانا محمد قاسم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے تو فاتحہ خوانی کے بعد مراقبہ کیا اور دیر تک مراقبہ کرتے رہے۔ مراقبہ سے فارغ ہو کر فرمایا کہ شاہ صاحب (مولانا انور شاہ کشمیریؒ) فرماتے ہیں کہ یہ شخص (خواجہ صاحب) آپ کے خلفاء میں سے ہو گا اس کو ہدایت کرو کہ یہ ہمارے پاس آیا کرے۔ شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ مجھے علم میں شاہ ولی اللہ جیسا سمجھیں مگر تقویٰ میں ان کے برابر نہیں۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ تقویٰ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، پھر پہلے مراقبہ کی نسبت فرمایا کہ رسولِ خدا ﷺ کی روح پرفتوح ظاہر ہوئی اور شاہ ولی اللہؒ کی روح بھی وہیں موجود تھی۔
(بحوالہ کتاب: حیاتِ فضلیہ ص 43، مقاماتِ فضلیہ ص 367، اکابرین کیا تھے؟ ص 271، مؤلف: مولانا منیر احمد اختر صاحب، ناشر: مکتبہ بیت العلم، تلمبہ ضلع خانیوال)
محترم قارئین! مراقبہ کے ذریعے اکابر کی ارواح سے فیض حاصل کرنا ہمارے اسلاف کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ اگر آج کوئی اللہ کا نیک بندہ مراقبہ کے ذریعے امت کی فلاح و بہبود اور مشکلات کے حل کیلئے اکابر کے مشورے اور اعمال بتاتا ہے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
