( محمد عبد اللہ ریاض نیازی ، میانوالی)
شیخ الوظائف تسبیح خانہ میں ہفت وار ہونے والے درس میں اکثر مراقبہ کی کیفیات کا ذکر فرماتے ہیں یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ ایک مسلمہ زندہ حقیقت ہے دوران مطالعہ ایک واقعہ پر نظر گزری سوچا اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے شیئر کر دوں۔ حضرت خواجہ صاحب فضل علی قریشی کے حالات و واقعات و کمالات بریلوی مسلک کے جید عالم مولانا ابوالخیر زبیر حیدر آبادی نے اپنی کتاب
(سندھ کے صوفیائے نقشبند، ج ۲،ص ۵۵۹ تا ۵۶۲)
تک لکھے ہیں اور ان کی بہت تعریف کی ہے آپ فرماتے ہیں کہ (خواجہ فضل علی قریشی) قبلہ عالم ہندوستان تشریف لائے یہ خاکسار کا تب الحروف ( مولا نا مسلم ) بھی وہاں پہنچ گیا اس عرصہ میں چند ایک رفیقوں کو لے کر جن میں کاتب الحروف اور مولانا عبدالمالک صاحب احمد پوری مدظلہ العالیٰ بھی تھے۔ حضرت مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے فاتحہ خوانی کے بعد مراقبہ کیا اور دیر تک مراقبہ کرتے رہے وہاں سے اٹھ کر حضرت مولانا انور شاہ کے مزار پر گئے اور مراقب ہوئے۔ مراقبہ سے فارغ ہو کر اس خاکسار سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص آپ کے خلفاء میں سے ہوگا اس کو ہدایت کرو کہ یہ ہمارے پاس آیا کرے حالانکہ یہ خاکسار اس وقت مبتدی تھا اور بیعت کو ایک سال ہوا تھا۔ اور فرمایا کہ شاہ صاحب نے اپنے لڑکوں کے نیک اور صالح ہونے کی دعا کرنے کو کہا ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے علم میں شاہ ولی اللہ جیسا سمجھیں مگر میں تقویٰ میں ان کے برابر نہیں۔ افسوس کہ میں نے موٹا موٹا تقوی کیا اور زیادہ خیال نہیں کیا۔ یہاں آکر معلوم ہوا کہ تقویٰ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں پھر پہلے مراقبہ کی نسبت فرمایا کہ رسول خداسی یتیم کی روح پرفتوح ظاہر ہوئی اور شاہ ولی اللہ کی روح بھی وہیں موجود تھی ۔ حضور اکرم صلی یا یہی تم نے مولانا محمد قاسم صاحب اور شاہ ولی اللہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان دونوں نے ہندوستان میں میرے دین کی اشاعت و تبلیغ کی ہے۔ حیات فضلیہ ص ۴۳، ۴۴، بحوالہ مقامات فضلیہ ص ۳۶، ۳۷ بحوالہ کتاب:
(اکابرین کیا تھے؟ صفحه ۱۷۲، مؤلف: مولانا منیر احمد اختر صاحب، ناشر: دار النعیم، اردو بازار لاہور)
محترم قارئین! عبقری کے منبر بیان ہونے والی ہر بات کے پیچھے اللہ کریم کے فضل سے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑ کی مہر لگی ہے۔
