(پروفیسر محمد الطاف، پاک ترک، انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالجز)
عبقری پر اعتراض کرنے والے لوگوں میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک تو وہ جن کو اپنے اکابر کی تعلیمات کا شعور ہی نہیں ہے اور دوسرے وہ لوگ جو جانتے تو ہیں لیکن ان کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ عبقری کو اتنی شہرت کیسے مل گئی۔۔۔! اللہ کریم سے دعا کیا کریں کہ اللہ کریم سدا ہمیں ”اکابر پر اعتماد“ سے جوڑے رکھے۔۔۔!
”اکابر پر اعتماد“ سے دین و دنیا بھی ہوگی خوشحال اور آخرت بھی پرجمال بے مثال و باکمال“
عبقری میں ذکر کی جانے والی کرامات، اعمال پر ملنے والے مشاہدات اور حیرت انگیز کیفیات و واردات پر اعتراض کرنے والے بھائیوں کی خدمت میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ (خلیفہ مجاز حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ) کی آپ بیتی نمبر 6 صفحہ نمبر 397 سے آپ کا ایک ملفوظ نقل کرتا ہوں جس سے ہمیں امید ہے کہ ہم اکابر پر عدم اعتماد سے توبہ کرلیں گے:
”شیخ الحدیث نے فرمایا ”سلوک کی لائن روموز و اسرارِ الٰہی سے مزین ہے بعض ایسے اسرار کے تحمل کا ہر شخص اہل نہیں ہے۔ اس لیے ایسے واقعات کے بارے میں اپنی ناقص عقل پر نہیں جانا چاہیے بلکہ یوں سوچنا چاہیے کہ میں ابھی نابالغ ہوں اور اس لائن کے بالغوں کی کئی باتوں سے ناواقف ہوں۔“
