محترم قارئین! تسبیح خانہ میں ہونے والے شبِ جمعہ کے درسِ ہدایت میں حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ بعض اوقات ’’رجال الغیب‘‘ اولیائے کرام کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ ہماری اس کائنات میں کچھ ایسے مقربانِ بارگاہِ الٰہی بندے بھی ہوتے ہیں، جن کی ڈیوٹیاں اللہ جل شانہٗ نے بعض مخصوص امور کی انجام دہی پر لگائی ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسی باتیں سن کر لاعلمی کی وجہ سے شرک کے شک میں پڑ جاتے ہیں، حالانکہ رجال الغیب ایک ایسا موضوع ہے جس کے متعلق قرآن و سنت میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔ اللہ پاک جل شانہٗ نے سورۃ النازعات میں فرمایا ہے: فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ”ایسے فرشتے جو امور کی تدبیر میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی بارش برسانا تو اللہ جل شانہٗ کا کام ہے، لیکن کب اور کہاں برسانی ہے، اس پر باقاعدہ فرشتہ مقرر ہے۔ رزق دینا اللہ جل شانہٗ کی شان ہے، لیکن مخلوق تک رزق پہنچانے پر فرشتے مقرر ہیں۔ اولاد دینا اللہ جل شانہٗ کے اختیار میں ہے، لیکن حاملہ عورت کے پیٹ میں روح پھونکنے پر فرشتے کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ بالکل اسی طرح رجال الغیب اولیائے کرام کیلئے بھی مخصوص ڈیوٹیاں مقرر ہیں جو وہ پوری ذمہ داری سے نبھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے اکابر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہما السلام بھی رجال الغیب میں شامل ہیں۔ (قسط نمبر 309)
مولانا امداد اللہ انور، جامعہ اشرفیہ لاہور لکھتے ہیں: اہل بیت کے شہسوار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنابِ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام دونوں ہر سال موسمِ حج میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کلمات پر علیحدہ ہوتے ہیں: بِسْمِ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يَسُوقُ الْخَيْرَ إِلَّا اللَّهُ، مَا كَانَ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ، بِسْمِ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا يَصْرِفُ السُّوءَ إِلَّا اللَّهُ، مَا شَاءَ اللَّهُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص ان کلمات کو صبح و شام تین مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے غرق ہونے سے، جل جانے سے، چوری ہونے سے، شیطان سے، بادشاہ کے ظلم سے، سانپ سے اور بچھو سے محفوظ رکھے گا
(دارقطنی صفحہ 225، تاریخ ابن عساکر صفحہ 470، تہذیبِ تاریخِ دمشق صفحہ 155، اتحاف السعادة صفحہ 112، البدایہ والنہایہ صفحہ 333، کنز العمال صفحہ 340، درِ منثور صفحہ 240، لسان المیزان صفحہ 920، شرح السنہ صفحہ 443 بحوالہ کتاب: تاریخ جنات وشیاطین صفحہ 225 ناشر: دارالمعارف، تحصیل جلال پور، ملتان)
