محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں ماہِ محرم الحرام میں کی جانے والی عبادات یا وظائف کے متعلق جو آرٹیکل شائع ہوتے ہیں، ہمارے اکابر و اسلافؒ سے وہ تمام وظائف ثابت ہیں۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ قربِ قیامت کے اس فتنوں بھرے دور میں ہمارے نزدیک قرآن و سنت اور اکابرینِ امت سے جڑے تمام اعمال مشکوک ہوتے جا رہے ہیں جو کہ ایک افسوس ناک امر ہے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ روز بروز جس قدر مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ہم دعائیں، تسبیحات، اعمال اور وظائف بھی بڑھا دیتے، کیونکہ اس اُمت کے تمام سلف صالحین ہر وقت قبولیت والے لمحات کی تلاش میں رہتے تھے خواہ وہ لمحات چاہے رمضان المبارک کی راتیں ہوں یا ذوالحجہ کے ابتدائی ایام، محرم الحرام ہو یا شبِ برأت۔۔۔ ہمیں بھی شک و شبہے میں مبتلاء ہونے کی بجائے انہی اعمال پر واپس لوٹنے کی ضرورت ہے۔
محی السنۃ، قاطع البدعۃ، امام الاولیاء حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جو شخص عاشوراء کے دن کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرے گا، اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہر بال کے عوض ایک ایک درجہ جنت میں بلند فرمائے گا۔
(بحوالہ: غنیۃ الطالبین، جلد 2 صفحہ 53 ناشر: نعمانی کتب خانہ، اُردو بازار لاہور)
اسی طرح حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص عاشورہ کے دن غسل کرے تو وہ کسی لاعلاج مرض میں مبتلاء نہیں ہوگا سوائے مرض الموت کے، (بحوالہ: ایضاً)
محدثِ شہیر، علامہ محمد عبدالرؤف المناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ: عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ توبہ و استغفار کر نیوالے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کے ذریعے حکم ہوا کہ اپنی قوم کو کہیں کہ وہ دس محرم کو میری بارگاہ میں توبہ و استغفار پیش کریں۔ میں ان کی مغفرت فرماؤں گا۔ (بحوالہ: فیض القدیر شرح جامع الصغیر جلد 3 صفحہ 34 ناشر: دارالحدیث قاہرہ)
