شیخ الوظائف جانوروں کی خدمت کا کیوں فرماتے ہیں؟

جانوروں کی خدمت۔۔۔ رب سے ملانے کا ذریعہ

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے اکثر دروس میں جانوروں کی خدمت کا تذکرہ فرماتے ہیں آج اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے اس راز سے پردہ ہٹاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خدمت ایک بہت بڑی سعادت ہے جس کے ذریعے دنیا اور آخرت کی پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔

(قسط نمبر 419)

اسلام کی تعلیمات امن و سلامتی پر مبنی ہیں یہاں تک کہ اسلام جانوروں تک کے حقوق بتلاتا ہے۔ (1) ایک بدچلن عورت کی محض اس عمل پر مغفرت ہوگئی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو جو مرنے کے قریب تھا پانی پلایا تھا (بخاری)۔ (2) ایک محدث کی اس بات پر مغفرت ہوگئی کہ انہوں نے ایک پیاسی مکھی کی خاطر اپنا قلم روک لیا تھا اور مکھی نے وہ سیاہی چوس لی۔ (3) ایک عورت کو ایک بلی کے سبب عذاب ہوا تھا کہ اس نے اس کو باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ بلی بھوک سے مرگئی (مسلم)۔ (4) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ ابرار کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ ابرار وہ ہوتے ہیں جو چیونٹی تک کو بھی تکلیف نہیں پہنچاتے۔ (5) ایک اونٹ نے آپ ﷺ کے پاس زیادہ کام اور زیادہ وزن اٹھانے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اس کے مالک سے فرمایا کہ اسے کھانا بھی پورا کھلایا کرو اور کام بھی اتنا کراؤ جتنا یہ کر سکے۔ ایک چڑیا پر رحم کی وجہ سے قیامت کے دن اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا جائے گا (مطالب عالیہ)۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ ہر جاندار کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا کھانا پینا دینا باعثِ ثواب ہے۔ صالح بن کیسانؒ بلی اور کبوتروں کی خدمت کرتے، عدی بن حاتمؒ چیونٹیوں کیلئے باریک روٹی رکھا کرتے تھے (بیہقی)۔ (6) گھوڑے وغیرہ پر اگر سفر کرو تو اگر سرسبز علاقہ ہو تو پھر درمیان میں وقتاً فوقتاً وقفہ کرلو تاکہ جانور اپنی خوراک کھالے اگر خشک سالی ہو تو پھر تیز چلو تاکہ منزل پر پہنچ کر جانور کو آرام کا موقع ملے اور پھر جب منزل پر پہنچو تو پہلے جانوروں کے کھانے پینے کا انتظام کرو، پھر اپنا کام کرو۔ شیخ احمد کبیر رفاعی رحمۃ اللہ کو ایک بلی کی خدمت کرنے پر اونچا مقام ملا۔ بلی کے بچے کی دعا سے ایک بزرگ کی مغفرت ہوگئی۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026