قاسم العلوم کی حضرت صابر کلیری کے مزار پر با ادب حاضری اور فیض کا حصول

(مفتی محمد فرقان محمود، فاضل جامعہ بنوریہ)

علامہ لاہوتی صاحب اور شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے واقعات میں مزارات کی حاضری کا ذکر بار بار ملتا ہے اس سفر کو تعلیماتِ اکابرؒ کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو کتابوں کی کتابیں ان واقعات سے بھری پڑی ہیں، ذیل میں اکابرؒ پر اعتماد کے دوستوں کیلئے حجة الاسلامؒ کی مزارات پر باادب حاضری کا ایک واقعہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری کا کوئی ایک عمل بھی قرآن وسنت وتعلیماتِ اکابرؒ سے ہٹ کر نہیں۔

حضرت مولانا قاسم نانوتوی صاحبؒ بانی دارالعلوم اکثر سال میں کلیر شریف حاضر ہوتے اور اس انداز سے کہ میرے خیال میں آج بھی کوئی بزرگوں کا معتقد شاید (مزارات پر) اس انداز سے نہ جاتا ہو، رُڑکی (جگہ کا نام) سے چھ میل کے فاصلے پر حضرت صابر کلیریؒ کا مزار ہے اور نہر کے کنارے کنارے راستہ جاتا ہے۔ تو آپ نہر کے کنارے پٹری پر پہنچ کر جوتے اتار لیتے تھے۔ چھ میل ننگے پیر طے کرتے وہاں پہنچ کر عشاء کی نماز کے بعد روضہ میں داخل ہوتے۔ پوری رات مزار پر گزارتے تھے اس میں ریاضتیں، مجاہدہ، استفاضہ اور فیض حاصل کرتے اور صبح کی نماز کیلئے وہاں سے نکلتے۔

حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ مزارات پر جانے کو ناجائز سمجھتے تو خود ننگے پیر ادب سے مزارات کیلئے کیوں پیدل جاتے۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ بھی ہندوستان میں جس قدر سلسلے کے اکابرؒ ہیں سفر کر کے ان کے مزارات پر حاضر ہوئے۔ حضرت شاہ محب اللہ صاحب اللہ آبادیؒ کا مزار الہ آباد میں ہے تو وہاں گئے، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور حضرت خواجہ صابر کلیریؒ کے مزار پر بھی آپ نے حاضری دی۔

امام اعظم ابوحنیفہؒ نے اپنی مسند میں روایت نقل کی ہے کہ آدابِ زیارت میں سے ہے کہ قبلہ کی طرف پشت اور میت کی طرف چہرہ ہو اس لیے کہ وہ (مردہ) تمہاری بات سنے گا اور تمہیں دیکھتا ہے جب یہ تفصیل موجود ہے تو اولیاء اور صلحاء کے مزارات پر بے ادبی اور گستاخی کسی طرح سے جائز نہیں اور اولیاء اللہؒ تو بڑی چیز ہیں صلحاء مومنین کی قبروں کے ساتھ بھی گستاخی جائز نہیں ہے۔ قبر کو تکیہ لگانا، پھلانگ کر جانا قبر کی بے حرمتی ہے۔ جس شریعت نے اولیاء اللہؒ کی اتنی توقیر کی ہو کہ ان کی زندگی میں بھی تہذیب سے پیش آؤ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی قبروں سے توقیر و تعظیم کا معاملہ کرو تو کون ہے جو ان کی قبروں کی بے ادبی کو جائز رکھے گا۔

محترم قارئین! پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اسلاف اور اکابرؒ کے ساتھ اپنے دامن کو جوڑ لیا جائے۔! اللہ کے فضل سے ساری دنیا میں عبقری اور تسبیح خانہ کی کوشش بھی ہے کہ مرتے دم تک ہمارا دامن اپنے اکابرؒ سے جدا نہ ہو۔ آمین

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026