درود تاج تعلیمات اکابر کی روشنی میں ہر پریشانی کا حل

ہر شخص کی اپنی فیلڈ ہوتی ہے اور اسی میں وہ ماہر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ ہر بندے کو ہر ہر علم میں مہارت ہو ”عبقری“ کا موضوع بذریعہ اعمال لوگوں کو سکھ پہنچانا ہے اور ”عبقری“ کے ہر عمل کے پیچھے قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بر کی مہر لگی ہوتی ہے۔۔۔! ابھی کچھ دنوں پہلے ”عبقری رسالے میں درود تاج کاذکر آیا تواکابر کی تعلیمات سے نا آشنا دوستوں کیلئے مناسب معلوم ہوا کہ کچھ اکابرکی تعلیمات کی روشنی میں لکھ دیا جائے: حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے درود تاج کی اجازت: (2) ۔ ایک عالم دین فرماتے ہیں کہ میری والدہ درود تاج بڑے شوق سے پڑھتی تھیں کسی نے ان سے کہا کہ امام اولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ تو اس کے قائل نہیں ہیں میری والدہ نے حضرت لاہوری سے عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ذوق و شوق اور محبت میں پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دافع البلاء والوباء کو اس معنی میں پڑھا جائے کہ حضور صلی صلی اللہ علیہ وسلم بالا و باکے دور رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں فائل حقیقی اللہ رب العزت ہی کی ذات ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم وسیلہ اور واسطہ ہیں ۔ تائید میں پھر حضرت مولانا احمد علی لاہوری نے دلائل الخیرات شریف کا حوالہ دیا کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء صفاتی میں کاشف الکرب“ موجود ہے اور تمام اکابر اس کے پڑھنے کی با قاعدہ اجازت دیتے ہیں جب وہاں با تاویل جائز ہے تو یہاں بھی با تاویل جائز ہی ہے۔ (ہفت روزہ خدام الدین، امام الاولیاء حضرت لاہوری نمبرص 324 ، اشاعت 1979)
حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (1) مولانا حکیم محمد یسین خواجہ صاحب رحمہ اللہ موضع کرم علی والا ملتان نے اپنی کتاب بیاض مدنی ضمیمه شمس المعارف جو کہ دارالاشاعت کراچی سے شائع ہوئی ہے اس کتاب میں آپ نے درودتاج کی بڑی برکات لکھی ہیں اور اپنے مشائخ کی پوری سند بھی لکھی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ صبح و شام سات سات بار درود تاج کا پڑھنا بلندی درجات کیلئے مجرب ہے، اسی طرح بیمار حضرات کیلئے پانی وغیرہ پر دم کر کے پلانا شفاء دیتا ہے۔ بہت لوگوں کو اس کا تجربہ ہے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور وہ زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ہیں۔ اکابر کے یہاں درود تاج کی سند : نقل از کتاب محاسبة الاعمال ص 5 ، 6 مؤلف : مفسر قرآن پیر طریقت مولانا محمد عبد اللہ صاحب بہلوی رحمہ اللہ کو 29 جمادی الاول 1390ھ بروز پیر 3/8/1970 مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم نے دورہ حدیث پاک کے وقت طالب علمی کے زمانے میں عطیہ دیا تھا اور ان کو اس درود پاک کی اجازت حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دار العلوم سے با واسطہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحب سے ملی۔ (بحوالہ کتاب بیاض مدنی ضمیمه شمس المعارف ص 627، مرتب مولانا حکیم محمد یسین خواجہ صاحب موضع کرم علی والا ملتان، ناشر : دارالاشاعت کراچی) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی طرف سے درود تاج کی اجازت : (3) محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی کا ذوق و شوق اس ( درود تاج) کے پڑھنے کا ہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن وہ جو دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ہیں ان کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال مجاز آدرست ہے، آپ سلیم کو وسیلہ و واسط سمجھ کر تو گنجائش نکل سکتی ہے، اگر حقیقتا ان کے معانی مراد نہ ہوں، بلکہ مجاز امراد ہوں تو شرک نہ ہوگا ۔ ( فتاوی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر :143908200078) جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دارالافتاء کی طرف سے درود تاج کی اجازت: (4) – مفتی سیف اللہ جمیل صاحب رئیس دارالافتاء جامعہ بنوریہ اور مفتی نادر جان صاحب نائب رئیس دارالافتاء جامعه بورسیه، درود تاج ، درود ماهی، درود مستجاب ، درود اکبر، درود تنجینا ، درد دکھی ، دعائے گنج العرش ان تمام درودوں تفصیل کیلئے دیکھیں فتوی نمبر 19558، تاریخ 20/6/2013 دار الافتاء جامعہ عالمیہ بنوریہ سائٹ کراچی)
اور دعاؤں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کا پڑھنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
محترم قارئین! عبقری کے وطائف خود ساختہ نہیں۔۔۔ بلکہ ہمیں اپنے اکا بر کے دامن سے جڑنے کی ضرورت ہے۔(تحریر : مولانا ابوعون محمد جبلی صاحب ، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد ) !

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025