مشکلات و بلیات سے نجات درود تاج کے ذریعے ۔۔ تعلیمات اکابر کی روشنی میں

(1) محدث کبیر ، مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فرید جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک درود تاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور توسل سے بلا وغیرہ کو دفع کرتا ہے اس کیلئے ( درود تاج ) پڑھنا جائز ہے۔ (فتاویٰ فریدیہ ج1 ص 347 تخریج و ترتیب مفتی محمد وہاب مدرس دار العلوم
صدیقیه زروبی ، ناشر : دار العلوم صدیقیه زروبی صوابی )
(2) شیخ التفسیر حضرت مولانا عبد اللہ بہلوی فرماتے ہیں: جو شخص زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طالب ہوا سے چاہیے کہ 313 مرتبہ درود تاج 21 دن تک بلاناغہ پڑھے تو زیارت فیض بشارت سے مشرف ہوگا، ہزاروں لوگوں کو فائدے ہوئے ہیں اور زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ (کتاب : محاسبة الاعمال في الغد ووالأصال ص5 مصنف: شیخ التفسیر حضرت مولا نا عبد اللہ بہلوی)
(3) علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب دامت برکاتہم فاضل جامعہ اشرفیہ فرماتے ہیں درود تاج نہایت ہی مقبول و معروف ہے، مالی پریشانیوں کے حل ، مشکلات و بلیات کے تدارک اور قضائے حاجات کیلئے سریع الاثر ہے ( بحوالہ جامع الوظائف ص 264 ، ناشر : ادارۃ القریش لاہور ۔ اس کتاب میں موجود عملیات اور درود تاج کی تصدیق کرنے والے علمائے کرام ۔ (۱) مفتی شاہد عبید صاحب نائب مفتی جامعہ اشرفیہ لاہور ۔ (۲) حضرت مولا نا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب۔ (۳) حضرت مولانا عدنان کاکا خیل صاحب۔ (۴) شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب اشرفی ۔ (۵) استاد الحدیث حضرت مولانا حافظ فضل الرحیم )
(4) مولانا خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو نوکری میں ترقی اور پاکٹ منی میں برکت کیلئے ، ہر بیماری سے نجات کیلئے ،سانپ بچھو اور موذی جانور کے کاٹے کیلئے ، صاحب کشف بننے کیلئے بہت آزمودہ پایا ہے۔(5) مولانا قاری عطاء اللہ صاحب فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور فرماتے ہیں کہ میں نے اس درود تاج کو سخت ترین جنات سے خلاصی کیلئے تسخیر خلائق کیلئے ، حاملہ کی صحت کیلئے ، بانجھ پن دور کرنے کیلئے ، زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،علاج کیلئے نہایت ہی مجرب پایا ہے۔

مولانا عبدالغفار صاحب، فاضل جامعہ حنفیہ کراچی و فاضل وفاق المدارس العربیہ فرماتے ہیں خواب میں زیارت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے فوری شادی کیلئے ، حاسدین سے حفاظت کیلئے ، گناہوں سے بچنے اور بے بہا رزقی
کیلئے ، ایک ہفتہ میں جنات کے خاتمہ کیلئے لا جواب پایا۔
(تحریر: مولانا ابوعون محمد جہلمی صاحب، فاضل جامعہ امدادیہ فیصل آباد)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025