علامہ لا ہوتی صاحب کے واقعات میں افریقہ کے پر اسرارہ ہیبت ناک جنگلات میں خوفناک جنات کا تذکرہ ملتا ہے، یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید حقیقت ہے تاریخ کے مستند جھر کوں سے ایک واقعہ اکابر پر اعتماد کے دوستوں کیلئے پیش خدمت ہے: حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک جماعت مکہ معظمہ جانے کی نیت سے نکلی اور اتفاقاً راستہ بھول گئی ، اس لق و دق میدان میں زندگی کا کوئی سہارا نہ تھا ، موت کیلئے تیار ہو کر کفن پہن لیے اور لیٹ گئے ، اسی دوران ایک جن درختوں کو چیرتا ہوا سامنے آیا اور کہا میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سنی ہیں ، میں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
من كان يعمل بالله واليوم الآخر فليحب المسلمين ما يحب لنفسه یکره للمسلمين ما يكره لنفسه
ترجمه
” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ سب مسلمانوں کیلئے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز کو نا پسند کرے جسے اپنے لیے نا پسند کرتا ہے”
یہ حدیث سنا کر اس جن نے قافلے والوں کو راستے کی راہنمائی بھی کی اور پانی کا پتا بھی بتا دیا۔۔۔! ( بحوالہ ثمرات الا واراق ص 249 بحوالہ آ کام المرجان فی احکام الجان )
محترم قارئین ! علامہ لاہوتی صاحب کی زندگی کا ہر ہر گوشہ اکابر کے واقعات میں موجود ہے
ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنے اکابر کے دامن سے اپنا رابطہ مضبوط کریں۔ ( محمد صہیب رومی قادری)

درختوں کو چیر دینے والے صحابی جن سے صحابہ کرام کی ملاقات
- من گھڑت وظائف
- قسط نمبر 362