شیخ الوظائف کے نظر بد پر بیانات تعلیمات قرآن وسنت کی روشنی میں

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے بہت سے دروس میں نظر بد کی حقیقت اور اس سے بچنے کی تعلیمات کا ذکر ہوتا ہے اور ابھی کچھ عرصے سے مستقل نظر بد پر آپ کے بیانات ہورہے ہیں۔ میں اکابر پر اعتماد کے دوستوں کی خدمت میں کچھ تفصیل کے ساتھ نظر بد کی حقیقت عرض کرتا ہوں جس سے آپ یہ بات با آسانی سمجھ سکیں گے واقعی شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے ہمارے مرض کی تشخص بالکل صحیح کی ہے۔ نظر بد یا نظر لگنا ایک قدیم تصور ہے جودنیا کی مختلف اقوام میں پایا جاتا ہے۔ اسلام کے صدر اول میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کو نقصان پہنچانے کیلئے عرب کے ان لوگوں کی خدمات لینے کا ارادہ کیا جو نظر لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جس چیز کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے دیکھتے ہیں ان کے دیکھتے ہی وہ چیز تباہ ہو جاتی۔

(1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا حقیقت ہے۔
(بحوالہ بخاری، صحیح، رقم: 5408 مسلم، صحیح رقم : 2187 – أحمد بن حنبل، المسند رقم : 8228)
(2) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو نظر ہے اور جب تم سے ( نظر کے علاج کے لیے ) غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم، الصحیح رقم :2188 ۔ ابن حبان، اصحیح رقم 6107)
(3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کیلئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی : نظر بد، بچھو وغیرہ کے کاٹے پر، پھوڑے پھنسی کے لئے۔ (مسلم، اصحیح رقم : 2196 أحمد بن حنبل، المسند رقم : 12194 ترمذی، السنن، رقم : 2056)
(4) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا یا حکم دیا کہ نظر بد لگنے کا دم کیا کرو۔ (بخاری، صحیح رقم : 5406 ۔ مسلم، صحیح، رقم : 2195)
(5) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نظر بد سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ (ابن ماجہ رقم : 3508 صحیح الجامع رقم : 938)
(6) حضرت اسماء بنت عمیس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ بنو جعفر کو نظر بد لگ جاتی ہے تو کیا وہ ان پر دم کر سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر تقدیر سے کوئی چیز سبقت لے جانے والی ہوتی تو وہ نظر بد ہے ( مسند احمد ج 2 ص 438) (7) بے شک نظر بد انسان پر اثر انداز ہوتی ہے حتی کہ اگر وہ ایک اونچی جگہ پر ہو تو نظر بد کی وجہ سے نیچے بھی گر سکتا ہے۔
(صحیح الجامع رقم : 1681)
(8) نظر بد انسان کو اونچے پہاڑ سے نیچے گرا دیتی ہے۔ (الصحیحہ 1249)
(9) نظر بد انسان کو قبر میں اور اونٹ کو ہانڈی میں پہنچا دیتی ہے ( صحیح الجامع 4144)
(10) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قضا و تقدیر کے بعد سب سے زیادہ نظر بد کی وجہ سے میری امت میں اموات ہوں گی۔
(صحیح الجامع 1206 )

محترم قارئین ! درج بالا روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف کا نظر بد کو اتنی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا کوئی تو ہم پرستی نہیں بلکہ سچی حقیقت ہے جس پر قرآن و حدیث کے سینکڑوں دلائل موجود ہیں۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025