محترم قارئین ! جولوگ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست کو محض قصے کہانیاں کہہ کر رد کر دیتے ہیں ، انہیں اکابر و اسلاف کی ترتیب زندگی پر غور کرنا چاہئے کہ اگر جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے حقائق من گھڑت ہیں تو درج ذیل واقعات کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
معروف مصنف جناب رئیس امروہوی لکھتے ہیں کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات مولانا ابوبکر شیث کے مکان میں جنات رہتے تھے۔ ان کے گھر میں جو بچے پڑھنے جاتے ، ایک دن انہوں نے دیکھا کہ مولانا کی شیروانی خود بخو دکھونٹی کے اندر گھس گئی ، یہ دیکھ کر سب بچے سہم گئے تو مولانا نے فرمایا: کیوں بچوں کو پریشان کرتے ہو ، بس کرو ۔ ان کے فرماتے ہی یہ سلسلہ بند ہو گیا۔
اسی طرح حضرت شاہ غلام اعظم ( مکتبہ بریلویہ ) بھی قرآن وحدیث کا درس دیتے تھے۔ ایک دن ان کے طلباء آپس میں کہنے لگے کہ اگر قندھاری انار اور سیب کھانے کو مل جائیں تو مزہ آجائے۔ انہی طلباء میں سے مولا بخش نامی ایک طالب علم نے یوں ہاتھ بلند کیا اور اسی لمحے قندھاری انار اور سیب لا کر رکھ دیے۔ جب شاہ غلام اعظم صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے اسے خوب ڈانٹا اور فرمایا: بچوں کے سامنے ایسی حرکتیں کرتے ہو ، کل سے درس میں نہ آنا۔ اس کے علاوہ ان کے مدرسے میں رہنے والوں کا بارہا تجربہ تھا کہ چھت پر سے خوش الحانی کے ساتھ قرآن خوانی کی آواز آتی لیکن کوئی نظر نہ آتا.
( بحوالہ کتاب: جنات ، صفحہ 101 ناشر : فرید پبلشرز، اردو بازار کراچی)
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : حضرت یحیی بن سعید نے فرمایا کہ جب اماں عروہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو ان کے پاس بہت سے تابعین جمع ہو گئے۔ ابھی ہم ان کے پاس ہی تھے کہ سب نے چھت پھٹنے کی آواز سنی ، پھر ایک کالا سانپ گرا، جو بڑی کھجور کی مانند تھا۔ جونہی وہ اس خاتون کی طرف لپکا تو اچانک ایک سفید کاغذ گرا، جس پر لکھا تھا : بِسمِ اللهِ الرَّحْمِنِ الرَّحِیمِ عکب کے رب کی طرف سے عکب کی طرف! اے عکب تمہیں نیک لوگوں کی بیٹیوں پر ہاتھ بڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس نے یہ رقعہ دیکھا تو جہاں سے اترا تھا، وہیں واپس چڑھ گیا
( بحوالہ : دلائل النبوۃ جلد 7 صفحہ 16 بحوالہ کتاب: جن ہی جن ،صفحہ 134 مصنف: مفتی فیض احمد اویسی ، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نز دسیرانی مسجد بہاولپور)
مولانا محمد اسحاق بھٹی لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا معین الدین لکھوی کسی کے گھر جن نکالنے گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میزبان کی اہلیہ پر جن حاضر تھا۔ مولانا معین الدین لکھوی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ آواز آئی کہ میں آپ کے پڑدادے حافظ محمد لکھوی صاحب کا شاگرد ہوں اور ان کے پاس لکھو کے میں پڑھا ہوا ہوں ۔مولانا معین الدین لکھوی نے فرمایا کہ میرے پڑدادا نے کسی کو بھی یہ تعلیم تو نہیں دی کہ لوگوں کو پریشان کرنا چاہئے ،لہذا
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔ پس اس جن نے بھاری آواز میں السلام علیکم کہا اور چلا گیا۔
(بحوالہ کتاب: گزرگئی گزران ،صفحہ 156 ناشر: مکتبہ نشریات 40 اردو بازار لاہور )
