علامہ عبدالمصطفی اعظمی رحمة الله ( مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن افغان رحمة الله شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمة الله کے مرید خاص تھے۔ ایک دفعہ دوران سفر کسی مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جماعت میں شریک ہو گئے ۔ جب نماز مکمل ہوئی اور سب نمازی چلے گئے تو آپ نے امام مسجد کو فرمایا: اے خواجہ ! میں نے دیکھا کہ تم نماز کے دوران پہلے دہلی پہنچے ، وہاں سے غلام خرید کر خراسان لے گئے ۔ پھر وہاں سے چلتے ہوئے ملتان آگئے اور میں تمہارے پیچھے حیران پھرتا رہا کہ آخر یہ کیسی نماز ہے؟
( بحوالہ کتاب: روحانی حکایات ، صفحہ 284 ناشر: الاعظمیہ پبلی کیشنز تو حید نگر لاہور )
مولا نا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ : 1947ء کے فسادات کے دوران ایک بزرگ میاں اللہ دتہ مرحوم کو بازو پر گولی لگی اور وہ گرتے پڑتے پاکستان پہنچ گئے۔ ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور زخم بگڑتا جارہا تھا۔ اسی طرح چار ماہ بعد اپنے شیخ طریقت مولانا صوفی محمد سلیمان روہڑی ریای شمالیہ کے پاس جہانیاں منڈی پہنچے اور اپنی پریشانی بتائی۔ انہوں نے فرمایا: پٹی کھول دو۔
ان شاء اللہ یہ زخم اب بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا کہ تمہاری موت اسی زخم سے ہوگی اور اللہ تمہیں شہادت کی موت عطا فرمائے گا۔ بس ان کے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ پھر نہ کوئی زخم رہا ، نہ درد اور نہ ہی پیپ ۔ بازو بالکل صحیح سلامت ہو گیا اور پندرہ سال گزر گئے۔ ایک دن اچانک کسی ظاہری سبب کے بغیر ان کا زخم دوبارہ تازہ ہوا تو بولے: اب میں نہیں بچوں گا، کیونکہ میرے شیخ پریمیہ نے پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ چنانچہ چند روز بعد خالق حقیقی سے جاملے۔
(بحوالہ کتاب: قافلہ حدیث ، صفحہ 48 ناشر: مکتبہ قدوسیہ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور )
مفتی ثناء اللہ حمود صاحب لکھتے ہیں کہ : حافظ ضامن شہید رحمة الله کو علما میں خاص مقام حاصل ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله کا بیان ہے کہ ایک صاحب کشف بزرگ جب حضرت حافظ صاحب ریلی لیہ کے مزار پر فاتحہ پڑھنے تشریف لے گئے تو بعد میں کہے لگے: بھائی صاحب! یہ بزرگ کون ہیں؟ بڑی دل لگی کرتے ہیں۔ جب میں ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے : جاؤ کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، یہاں زندوں پر کیا پڑھنے آئے ہو؟
( ارواح ثلاثہ صفحہ 203 بحوالہ کتاب: مرنے کے بعد زندہ ہونے والوں کے حیرت انگیز واقعات، صفحہ 183 ناشر : ادارۃ الانور، بنوری ٹاؤن کراچی)
علامہ مفتی طالب حسین ( مکتبہ اثناعشریہ ) لکھتے ہیں : اس بات پر تمام علمائے اہل سنت و مجتہدین شیعت کا اتفاق ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی باطنی آنکھ کھول دیتا ہے، جسے عرف عام میں ” کشف” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کشف کی کئی اقسام ہیں ، مثلاً کشف الصدور ، کشف القبور، كشف الارواح ، کشف سمعی اور کشف بصری و غیر ھم ۔ چنانچہ ائمہ معصومین میں شامل تمام بزرگان کرام کا کشف اتنا قوی تھا، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ امام نعمان بن ثابت المعروف بہ ابوحیفہ ریلی علیہ کو شفی طور پر وضو کے پانی میں جو لوگوں کے گناہ نظر آجایا کرتے تھے تو یہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہی کی صحبت کیمیا اثر کی تاثیر تھی.
(بحوالہ کتاب : احسن العقائد صفحہ 78 ناشر : رحمت بک ایجنسی، کراچی)
قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ‘جنات کا پیدائشی دوست“ میں بیان کیے جانے والے کشف کے واقعات سو فیصد برحق ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی، جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
