جنات ، عامل کی بات مانتے ہیں یا اولیاء کی؟

محترم قارئین ! جس طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے شب وروز مسلسل جنات کی ہمراہی میں گزر رہے ہیں، اسی طرح ہمارے اکا بر واسلاف میں کئی جلیل القدر ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں جنات کی مخدوم تھیں ۔ جن لوگوں کا مطالعہ ایسی باتوں کی طرف نہیں ہوتا، وہ ماہنامہ عبقری کے اس کالم پر بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن اہل علم حضرات جانتے ہیں کہ جنات سے دوستی ہو جانا، یا ان کا مخدوم بن جانا کوئی ایسی چیز نہیں، جونا ممکنات میں سے ہو۔ آئیے ! قارئین عبقری کی طرف سے بھیجی گئی چند مزید مستند معتبر اور باحوالہ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

مفتی محمد فیض احمد اویسی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ : حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے جنات غلام تھے۔ ایک مرتبہ اصفہان کا رہائشی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اے غریب نواز ! میری بیوی کو آسیب کا مسئلہ ہے اور اسے بہت کثرت سے دورے پڑتے ہیں۔ تمام عامل اس کے علاج سے عاجز آگئے ہیں۔ حضرت غوث اعظم نے فرمایا: یہ سراندیپ کے بیابان کا جن ہے، جس کا نام خانس ہے۔ اب جس وقت تمہاری بیوی کو اس کی شکایت ہو تو کہنا: اے خانس ! بغداد کے عبد القادر کہتے ہیں، سرکشی نہ کر! اگر آج کے بعد تو نے ایسا کیا تو ہلاک کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد اس کی بیوی کو کبھی شکایت نہ ہوئی.

علامہ مولانا محمد یوسف خان کلکتوی رحمتہ اللہ علیہ ( مکتبہ اہل حدیث) کی خطابت میں ایسا جادو تھا کہ کوئی شخص بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مدرسہ غزنویہ میں کچھ جنات آپ کے باقاعدہ طور پر شاگرد بن چکے تھے۔ ایک دن جنات نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ہمارے قبیلے میں تشریف لے چلیں اور وہاں دین کی تبلیغ فرمائیں۔ آپ کی تبلیغ سے ہمارے بہت سے بھائی راہ راست پہ آجائیں گے۔ چنانچہ جنات علامہ صاحب کو اٹھا کر اپنی بستی میں لے گئے اور پورا ایک ہفتہ آپ سے وعظ ونصیحت سنتے رہے۔ علامہ صاحب کے گھر والوں اور مدرسے کے ناظمین کوکوئی خبر نہ تھی کہ آپ کہاں ہیں۔ بالآخر ایک ہفتے بعد اچانک خود تشریف لائے اور آکر سارا واقعہ سنایا؛ یہ بھی فرمایا کہ جنات نے مجھے ایک خاص وظیفہ دیا ہے کہ مجھے جب کبھی ان کی ضرورت پڑے، تو میں انہیں اسی وقت حاضر کر لیا کروں


حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خواجہ محمد غوث گوالیاری نے ایک مرتبہ اپنے خادم جنات کو بھیجا کہ جا کر شیخ عبدالقدوس گنگوہی کو یہاں لے آئیں۔ جنات ان کی مسجد میں پہنچے ،مگر شیخ کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوئی۔ شیخ عبدالقدوس گنگوہی نے خود ہی محسوس کیا تو فرمایا : کدھر آئے ہو؟ جنات نے جواب دیا کہ خواجہ محمد غوث آپ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ کا حکم ہو تو ہم آپ کو ایسے طریقے سے لے جائیں گے کہ آپ کو تکلیف نہ ہوگی ۔ شیخ عبدالقدوس نے فرمایا: میں حکم دیتا ہوں کہ محمد غوث کو میرے پاس لے آؤ۔ یہ سنتے ہی جنات واپس گئے اور خواجہ محمد غوث کو اٹھالیا۔ انہوں نے پوچھا: بھئی تم تو میرے مطبع تھے، اب مجھے ہی کیوں اٹھانے لگے؟ جنات نے کہا: جناب ! ہم آپ کی بات ہر کسی کے مقابلے میں مان سکتے ہیں لیکن شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مقابلے میں نہیں مان سکتے۔ چنانچہ خواجہ محمد غوث گوالیاری، شیخ عبد القدس گنگوہی کی خدمت میں پہنچے، معافی مانگی اور ان کی بیعت میں شامل ہو گئے ۔

الحاج مولانا روشن علی نجفی ( مکتبہ اثناء عشریہ) لکھتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم کی مجلس میں ہر وقت تیس ہزار جنات حاضر رہتے تھے، جو اپنے اپنے قبائل کے سردار تھے۔ ایک دن امام موسیٰ کاظم کو بخار کی شکایت ہوئی تو ان کے خدام جنات میں سے عبدالوارث نامی جن اپنے قبیلے کا ماہر حکیم بلا کر لایا، جس کے خاندان میں گزشتہ پانچ ہزار سالوں سے طب و حکمت چلی آرہی تھی۔ اس حکیم جن نے امام موسیٰ کاظم کے پاس رہتے ہوئے متواتر تین دن تک علاج کیا،
جس سے آپ رو بصحت ہو گئے

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025