اگر گدھے کے کُھر (ناخن )پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو وہ پاک ہے ،مرگی کے مریض پر کسی طبیب نے بطور علاج کے لٹکانے کا کہا ہے تو لٹکاسکتے ہیں ۔
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔فتویٰ نمبر : 14470210147
مرگی کے لیے گدھے کا سُم (کُھر)لے کر اس کی انگوٹھی بنا کر مریض اپنی انگلی میں پہنے۔اللہ تعالیٰ مرگی کو دور کرے گا اور مریض شفا پائے گا۔
مولانا صوفی محمد عزیزالرحمنؒ پانی پت کی کتاب: آئینہ عملیات، صفحہ نمبر 230پر لکھا ہے:
گدھے کے کُھر کی بنی انگوٹھی سے مرگی کاعلاج
اگر گدھے کے کُھرسے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو اسے مرگی کا دورہ نہیں پڑتا۔
امام كمال الدين الدميريؒ کی کتاب حیاۃ الحیوان کبریٰ ،جلد اول،صفحہ نمبر 358پر لکھا ہے۔
مشہور صوفی عالم عبدالوہاب الشعرانی ؒنے حکیم امام السویدیؒ کی طبی یادداشتوں کا خلاصہ ’’ مختصر تذکرہ امام السویدی فی الطب‘‘ کے نام سے مرتب کیا۔ اس کتاب میں بھی مرگی کے علاج کے تحت گدھے کے کُھر کا مجرب نسخہ درج ہے۔ گدھے کے کُھر کی بنی انگوٹھی سے مرگی کاعلاج:اور اگر وحشی گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ پورے سال دورے سے محفوظ رہتا ہے، اور ہر سال نئی انگوٹھی تجدید کی جائے۔
امام الشعرانی ؒ کی کتاب” مختصر تذکرہ امام السویدی فی الطب ” صفحہ 27 پر لکھا ہے۔
ابن بیطار نے اپنی کتاب” الجامع لمفردات الأدوية والأغذية ” میں مشہور طبیب ابو بکر محمد بن زکریا الرازیؒ کی ’’ کتاب الخواص‘‘ میں سے نقل کیا ہے کہ گدھے کے ناخن سے مرگی کا علاج :۔ مجھے ایک کتاب ملی جو ہرمِس سے منسوب ہے، کہ اگر گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ مرگی کے دورے سے محفوظ رہتا ہے۔
ابن بیطار ، الجامع لمفردات الأدوية والأغذية،صفحہ نمبر 239پر لکھا ہے۔
مرگی کے علاج کے لیے،تِریاقِ سونا (ترياق الذهب)، زمرد کو لٹکانا اور اسے پینا، اور گدھے کےدائیں کُھر سے بنے ہوئے انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پہننا اس شرط کے ساتھ کہ ہر سال اس کی تجدید کی جائے ۔یہ سب مفید ہیں۔
شیخ داؤد الانطاکیؒ ، تذكرةأولى الألباب المؤلف, جلد نمبر 3 ،صفحہ نمبر 398پر لکھا ہے
