عبقری کا پیغام اعمال سے بننے، اعمال سے پلنے، اعمال سے بچنے کا یقین یعنی ہماری دنیا و آخرت اعمال ہی کی برکت سے سنورے گی
عبقری کے اس آفاقی پیغام پر بعض ناسمجھ لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا وظائف کے سہارے بھی کبھی زندگی گزری ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور میں اعمال سے بننے کا یقین کس طرح عام کیا۔
ناراضگی ختم کرنے کیلئے خاص وقت میں خاص عمل:
جس عورت کا خاوند اس سے ناراض ہو یا اس پر توجہ نہ کرتا ہو، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اس عورت کیلئے 100 مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھنے کا عمل بتایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ عمل ٹھنڈے وقت میں کیا جائے، یعنی بعد نمازِ فجر یا بعد نمازِ عشاء۔
(بحوالہ کتاب: عملیاتِ اکابر، صفحہ 14 مصنف: سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ) (ناشر: مکتبہ سلطان عالمگیر 5 لوئر مال، اردو بازار لاہور)
قارئین! غور کریں کہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے اس چھوٹے سے عمل کی تعداد بھی مقرر کی ہے اور ساعت یعنی ایک خاص وقت کی پابندی بھی لگائی ہے۔ یہی عمل جب ماہنامہ عبقری سے مخلوقِ خدا کی خیرخواہی کے جذبے سے شائع ہوتا ہے تو اعتراض کرنے والے یہ بتائیں کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ جیسی فخر المحدثین ہستی کی بات مانی جائے گی یا اسلاف و اکابر سے بیزار بے بنیاد اعتراض کرنے والے لاعلم لوگوں کی؟
