ایک وظیفے کے زیادہ فائدے کیوں ہوتے ہیں؟

سوال: بعض اوقات عبقری میں ایک ہی وظیفے کے کئی فائدے لکھے ہوتے ہیں۔ میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ایک ہی وظیفے کے اتنے سارے کمالات کیسے ہوسکتے ہیں؟ اس کی تھوڑی وضاحت فرمادیں (سائل: مہران کاشف پنڈی بھٹیاں)

جواب: میرے بھائی! جو شخص روحانی عملیات کی الف ب سے بھی واقف ہو وہ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ ہمارے اکابر بھی بعض اوقات ایک ہی عمل کے بے شمار فائدے بتایا کرتے تھے۔ مثلاً امام ربانی قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ عام طور پر ہر مرض کیلئے سریانی زبان کے چند حروف ”1115ھ 111“ کا تعویذ لکھ کر دیتے، جو بذریعہ ڈاک بھی ارسال کیا جاتا۔ اس کے علاوہ آپ جملہ بیماریوں، بدچلنی اور آوارگی کیلئے سورہ فاتحہ کو کاغذ یا طشتری پر لکھ کر پانی میں گھول کر پلانے کا فرماتے.

اسی طرح ماضی قریب کے مشہور عالم دین زبدۃ المحققین، حضرت علامہ محمد موسیٰ خان روحانی بازی رحمہ اللہ (جن کی علمی صلاحیت کو امام کعبہ نے بھی قبول کیا) نے درود شریف کی ایک کتاب لکھی، جس کے بیس فوائد ذکر کیے: (1) ہر حاجت پوری ہوگی (2) ہر مشکل آسان ہوگی (3) لاعلاج بیماریوں سے شفاء ملے گی (4) تجارت و کاروبار میں برکت ہوگی (5) مقدمہ میں کامیابی ہوگی (6) سحر اور جادو ختم ہو جائے گا (7) جنات کی شرارت سے خلاصی ملے گی (8) بے اولاد کو اولاد مل جائے گی (9) نرینہ اولاد کا حصول آسان ہوگا (10) سفر میں سلامتی و کامیابی ہوگی (11) ملازمت سہولت سے ملے گی (12) سفر میں ساتھ رکھنے سے برکت ملے گی (13) فوراً شادی ہوجائے گی (14) گمشدہ چیز مل جائے گی (15) دشمنوں پر غلبہ نصیب ہوگا (16) جس گھر میں یہ کتاب ہوگی اس میں خوب خیر و برکت ہوگی (17) علم میں برکت ہوگی (18) حج و عمرے کی سعادت ملے گی (19) خواب میں زیارتِ النبی ﷺ ہوگی (20) لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوجائے گی۔

اب کیا اتنے بڑے علماء کے بارے کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے کوئی بات جھوٹ لکھی ہے؟ یا وظیفے کے فوائد بتانے کیلئے ہر قسم کا چونا منجن اکٹھا کر دیا ہے؟ اس طرح کے اعتراض لگانے کیلئے صرف عبقری ہی کیوں نظر آتا ہے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026