احادیث میں تعویذ لکھنے اور لٹکانے کا ثبوت

مولانا صاحب! میں نے پڑھا ہے کہ تعویذ لکھنا بدعت اور لٹکانا شرک ہے؛ جبکہ ماہنامہ عبقری میں اور عبقری کے فیس بک پیج پر بہت زیادہ تعویذات بتائے جاتے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ان سے یہ سلسلہ بند کروایا جائے (مجیب اللہ محمدی، سیالکوٹ)

جنابِ عالی! آپ کی معلومات میں کمی ہے۔ احادیث میں کہیں بھی تعویذ کو شرک نہیں کہا گیا، بلکہ تمیمہ لٹکانا شرک ہے۔ تمیمہ کے معنی ہیں (منکہ) اور منکے لٹکانے پر تو ہمارے تمام اکابر کا اتفاق ہے کہ یہ شرک ہے؛ مگر تعویذ لکھنا اور لٹکانا چونکہ صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے اس لیے عبقری والے تعویذات کے ذریعے اللہ کی پناہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ درج ذیل صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اللہ عنہم تعویذ لکھنے اور لٹکانے کے قائل تھے۔

(1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ (ابو داؤد ج 2 ص 543، مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 75)

(2) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بچے کی پیدائش کیلئے دو قرآنی آیات لکھ کر دیتے تھے اور ان کو دھو کر پلانے کا حکم فرماتے۔ طبرانی کی روایت میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ اس پانی میں سے کچھ پیٹ پر اور کچھ منہ پر بھی چھڑکوا دیتے تھے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 60)

(3) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی اس کی قائل تھیں کہ پانی میں تعویذ ڈال کر وہ پانی مریض پر چھڑکا جائے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 60)

(4) حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ قرآنی آیات لکھ کر مریض کو پلائی جائیں (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74)

(5) حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں چمڑے میں مڑھ کر تعویذ پہننا جائز ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74)

(6) حجاج بن اسود کہتے ہیں میں نے مکہ کے مفتی اعظم حضرت عطاء بن رباح رحمتہ اللہ علیہ سے تعویذ کے متعلق پوچھا تو وہ فرمانے لگے ہم نے تو نہیں سنا کہ کوئی اس کام کو مکروہ کہتا ہو۔

(7) امام باقر رحمتہ اللہ علیہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کی آیات کو چمڑے میں لکھ کر لٹکایا جائے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 74)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026