ہر خواتین پر جنات کا حملہ۔۔۔ خبردار رہیں!

عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی بارہویں دلیل

جنات کی کارستانیوں کے مستند واقعات کے سلسلہ کی گیارہویں دلیل میں آپ نے پڑھا کہ ہمارے بیت الخلاء بھی جنات کے مورچے ہیں اور وہاں بیٹھے جنات ہر وقت ہماری گھات میں رہتے ہیں آج بارہویں دلیل میں آپ پڑھیں گے کہ خواتین کی ماہواری میں بھی ’’جنات‘‘ حملہ آور ہو جاتے ہیں ’’ماہنامہ عبقری‘‘ میں علامہ لاہوتی صاحب کے ذکر کردہ اس جناتی حملے کی دلیل ’’سنن ترمذی‘‘ کی وہ روایت ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ

’’جنات‘‘ خواتین کو پریشان اور بیمار کرنے کے لئے انہیں رحم کی ایک خاص رگ میں ٹھوکر مار کر استحاضہ میں مبتلا کر دیتا ہے جس کی وجہ سے انہیں معمول کی ماہواری کے علاوہ بہت زیادہ خون جاری رہتا ہے

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحشؓ کی ہمشیرہ، خالہ المؤمنین سیدہ حمنہ بنت جحشؓ نے ایک بار آنحضرت ﷺ سے کثرتِ استحاضہ کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا ھِیَ رَکْضَۃٌ مِّنْ رَّکَضَاتِ الشَّیْطٰنِ یہ تو شیطان کی ایک ٹھوکر ہے۔ (سنن ترمذی)

اس حدیث کی مسند احمد اور بخاری کی روایت سے بھی اس طرح تائید ہوتی ہے۔

اِنَّمَا ھُوَ عِرْقٌ وَّلَیْسَتْ بِالْحَیْضَۃِ یہ تو ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے

یعنی اس حدیث میں ایک بات مذکور ہے کہ شیطان (جن) رحم کی کسی رگ کو ایسی ٹھوکر مارتا ہے جس سے رحم کے راستے خون جاری ہو جاتا ہے۔

عبقری کا مشن ہی یہ ہے کہ انسانیت کے دکھوں کو بانٹا جائے اور زیادہ سے زیادہ جنات کے حملوں سے بچایا جائے۔

عبقری میں ذکر کردہ جناتوں کے انسانوں پر حملوں کے مستند حوالہ جات ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے دوست اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026