شیخ الوظائف کا صاحبِ مزار سے ہمکلام ہونا تعلیماتِ صحابہؓ کی روشنی میں

صحابی رسول ﷺ نے مُردے سے ملاقات کا قسم کھا کر اعلان کر دیا۔۔!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کا معمول ہے کہ آپ جب بھی کسی دوسرے شہر میں تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں کے اہلِ اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور بعض اوقات وہاں کے اہلِ اللہ سے ملاقات آپ پر منکشف ہو جاتی ہے اور یہ ملاقات کوئی خود ساختہ کہانی نہیں بلکہ تواتر سے منقول ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ باذوق اہلِ علم کے لیے شیخ الوظائف کے اس طرزِ عمل کے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصنیف ’’شوقِ وطن‘‘ میں ہے۔

حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قسم ’’اللہ وحدہ لا شریک لہ‘‘ کی کھا کر کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانیؒ کو ان کی لحد میں رکھا اور میرے ساتھ حمید طویلؒ بھی تھے جب ہم نے ان پر کچی اینٹیں چنیں تو ایک اینٹ گر پڑی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں اور وہ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! اگر کسی کو آپ نے قبر میں نماز پڑھنا عطا فرمایا ہے تو مجھ کو بھی عطا کیجئے، سو! خدا تعالیٰ نے ان کی دعا رد نہیں فرمائی بلکہ جیسے موسیٰؑ کو یہ دولت قبر میں نماز پڑھنے کی عطا ہوئی ہے۔ اس طرح ان کو عطا ہوئی۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026