شیخ الوظائف کا فرمان: قبرستان جا کر باتیں کریں! انوکھا روحانی سچا انکشاف

شیخ الوظائف نے اپنے درس میں فرمایا کہ قبرستان جا کر اپنے مرحومین سے باتیں کیا کریں اس سلسلے میں ہم اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کرنے کے بجائے حافظ الحدیث علامہ جلال الدین السیوطیؒ کے چند حوالہ جات شہیدِ اسلام مولانا یوسف لدھیانویؒ کی زبانی عرض کرتے ہیں:

س….. قبر پر کوئی عزیز مثلاً: ماں باپ، بہن بھائی یا اولاد جائے تو کیا اس شخص کی رُوح انہیں اس رشتے سے پہچانتی ہے؟ ان کو دیکھنے اور بات سننے کی قوت ہوتی ہے؟

ج….. حافظ سیوطیؒ نے ’’شرح الصدور‘‘ میں اس مسئلے پر متعدد روایات نقل کی ہیں کہ میت ان لوگوں کو جو اس کی قبر پر جائیں، دیکھتی اور پہچانتی ہے اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر پر جائے، جس کو وہ دُنیا میں پہچانتا تھا، پس جا کر سلام کہے تو وہ ان کو پہچان لیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔‘‘ یہ حدیث ’’شرح صدور‘‘ میں حافظ ابن عبدالبر کی ’’استذکار‘‘ اور ’’تمہید‘‘ کے حوالے سے نقل کی ہے، اور لکھا ہے کہ محدث عبدالحق نے اس کو ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 3 ص: 88)

سماع ثابت ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ کوئی خارج سے آواز اللہ پاک اپنی قدرت سے مُردوں کو سنادے کہ جس میں نہ صاحبِ صوت کو کچھ دخل ہو اور نہ میت کو ہو، تو ایسا ہونا بداہتہً بالکل ممکن ہے، اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق کی قدرت سے خارج نہیں۔ شواہدِ کثیرہ اس پر صاف دلالت کرتے ہیں، مثلاً قبرستان میں داخل ہونے کی دعا میں مُردوں کو مخاطب کر کے سلام کی مشروعیت، اسی طرح بعدِ دفن لوٹنے والوں کے جوتوں کی آواز کا مُردہ کو سنائی دینا وغیرہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء، دارالعلوم۔

شیخ الوظائف دامت برکاتہم سو فیصد تعلیماتِ اکابرؒ کو پھیلاتے ہیں۔۔۔!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026