ختم نبوت کے امیر کی صحابی جنؓ سے ملاقات

(انتخاب: قاری شعیب صاحب، فیصل آبادی، فاضل جامعہ دارالقرآن)

علامہ لاہوتی صاحب کی صحابی جنؓ سے ملاقات کوئی انوکھی کہانی نہیں بلکہ تاریخ میں بکھرے سینکڑوں واقعات اس پر شاہد ہیں دور حاضر میں ختم نبوت کے امیر کی بھی صحابی جنؓ سے ملاقات عالمی مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کی زبانی پیش خدمت ہے:

شاہی مسجد کہروڑ پکا کے خطیب حافظ حفظ الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ مولانا غلام محمد ریحانؒ جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے ایک عرصہ تک امیر رہے۔ ایسے ہی بخاری چوک کی جامع مسجد میں عرصہ دراز تک امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بخاری چوک والی مسجد سے پہلے ایک اور مسجد میں امام و خطیب رہے۔ ایک دن مسجد میں آئے تو ایک سانپ کے بچے کو دیکھا تو سانپ سمجھ کر مار دیا، وہ سانپ نہیں جن تھا۔ سانپ کے متعلق بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر سانپ ہو تو اسے تین دفعہ آواز دو کہ اگر تو کوئی اور چیز ہے تو نکل جا اور اگر نہ جائے تو اسے مار دو۔ بہرحال تھوڑی دیر کے بعد مولانا غائب ہو گئے۔ یعنی انہیں جنات اٹھا کر لے گئے اور تقریباً تین چار روز غائب رہے۔ ان کا کیس جنات کے قاضی کے سامنے پیش ہوا کہ مولوی صاحب نے ہمارا بچہ مار دیا ہے۔

مولانا سے پوچھا گیا تو مولانا نے کہا کہ میں نے سانپ کو مارا تھا، نہ کہ کسی آدمی اور جن کو، تو انہیں کہا گیا کہ وہ جن تھا، جو سانپ کی شکل میں تھا تو بہرحال جنات کے سربراہ نے کہا کہ آپ کے بچے کو کس نے کہا تھا کہ وہ سانپ کی شکل اختیار کر کے مسجد میں جائے؟ قاضی نے ایک بڑی عمر کے جن کو طلب کیا، وہ جن بڑی عمر کا تھا۔ اتنی بڑی عمر کہ اس کی آنکھیں پلکوں کے نیچے چھپ گئی تھیں، پلکیں اٹھا کر دیکھا تو اس نے تصدیق کی کہ واقعتاً یہ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ قاضی نے اپنے گارڈ (حفاظتی دستہ) کی حفاظت میں انہیں بھیجا، وہ آ کر ساٹھ ہزاری نہر (جو کہروڑ پکا سے پہلے واقع ہے، اس وقت جنگل ہوتا تھا) پر چھوڑ گئے تین چار دن جب موصوف غائب رہے تو والدین اور گھر والے پریشان اور ان کے استاد قاری امیر الدینؒ اپنی جگہ پر غصہ کہ میرا شاگرد بغیر اجازت کے غائب رہا، جب واپس آئے تو اس کے بعد حضرت قاری صاحبؒ بہت محبت فرماتے تھے۔ مسجد قاضیاں کے خطیب مولانا محمد یعقوبؒ جو اچھے عامل تھے، انہوں نے عملیات کے ذریعہ جنات کو بھگایا۔ مولانا غلام محمد ریحان نے ۱۷ جنوری ۲۰۱۷ء کو انتقال فرمایا۔ (مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد)۔

علامہ لاہوتی صاحب کے واقعات کا انکار کرنے والے کیا اس واقعہ کا بھی انکار کریں گے اور اسے بھی جھٹلائیں گے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026