- کیا شریعت کلامِ الہیٰ کا دم شدہ دھاگا پہننے کی اجازت دیتی ہے؟
- کیا شفاء کے لیے دھاگا باندھنا جائز ہے؟ شرک ہے یا بدعت ہے؟
لا علاج کمر، جوڑوں کا درد اور جملہ تمام امراض کے لیے عبقری ہجویری محل کے آستانہ منت میں دُکھی مخلوقِ خدا کے لیے اسمِ اعظم کا دم شدہ شفائیہ دھاگا دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کم علمی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ دم شدہ دھاگا باندھنا شرک اور بدعت ہے۔ حالانکہ با امرِ مجبوری شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔
آئیے! صحابہ کرامؓ، اکابرین اور مفتیانِ کرام سے اصل حقیقت جانتے ہیں!
سوال: محترم جناب مفتیانِ کرام! دفعِ درد کے لیے قرآنی آیات کا دم کیا ہوا دھاگا باندھنا کیسا ہے؟
الجواب حامداً ومصلیاً: دارالافتاء صفحہ اسلامک ریسرچ سینٹر: فتویٰ نمبر: 2045- حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرامؓ کو یہ کلمات سکھائے تھے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَاللهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ۔
چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی بڑی اولاد کو یہ کلمات سکھا دیے ہیں اور یاد کرا دیے ہیں تاکہ وہ ان کو پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے رہا کریں اور اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہیں، اور جو میرے چھوٹے بچے ہیں وہ یہ کلمات خود سے نہیں پڑھ سکتے ان کے لیے میں نے یہ کلمات کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں ڈال دیے ہیں۔ (ابوداؤد شریف: 2/523)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں نقل فرمایا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دردِ زہ میں مبتلا عورت کے لیے ولادت میں آسانی کے واسطے ایک تعویذ لکھ کر اس کے بازو میں باندھنے کا حکم دیتے تھے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ اس تعویذ کو گھول کر پلانے اور تعویذ کے پانی کو مذکورہ عورت کی رانوں وغیرہ میں چھڑکنے کا حکم دیتے تھے۔ (مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ: 19/63-65 مطبوعہ: الریاسۃ العامہ لشئون الحرمین الشریفین)
اس سے معلوم ہوا کہ دفعِ درد کے لیے دھاگا باندھنا جائز ہے بشرطیکہ قرآنی آیات اور اللہ کا کلام ہو۔ لیکن یہ بات ذہن میں ہو کہ شفا اللہ کے حکم سے ہے نہ کہ دھاگے کی وجہ سے۔
قال الشيخ الملا علي القاري رحمه الله تعالى: "إن الرقى يكره منها ما كان بغير اللسان العربي، وبغير أسماء الله تعالى، وصفاته وكلامه في كتبه المنزلة، وإن اعتقد أن الرقية نافعة لا محالة فيتكل عليها وإياها”. (مرقاة المفاتيح: 8/ 358، 359، كتاب الطب والرقى)
وقد أجمع العلماء على جواز الرقية عند اجتماع ثلاثة شروط: أن يكون بكلام الله تعالى، أو بأسمائه، وصفاته، وباللسان العربي، أو بما يعرف معناه من غيره، وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى. (فتح الباري: 10/ 220، كتاب الطب، باب الرقى بالقرآن والمعوذات)
قالوا: وإنما تكره العوذة إذا كانت لغير لسان العرب ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به. (رد المحتار: 9/ 523)
آئیے! صحابہ کرامؓ، اکابرین اور مفتیانِ کرام سے اصل حقیقت جانتے ہیں!
امراض سے شفاء کیلئے دھاگہ باندھنا جائز ہے!
دارالافتاء: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن۔فتویٰ نمبر: 144012200388
سوال: قرآنی آیت والے تعویذ یا دھاگے باندھنا یا دم کروانا صحیح ہے؟ جواب/فتویٰ: اگر دھاگے پر قرآنی آیات پڑھ کر دم کیا ہو اور یقین اللہ کی ذات پر ہو تو اسے حرام نہیں کہا جائے گا۔
دم شدہ دھاگہ باندھنا شریعت کے خلاف نہیں ہے!
دارالافتاء: جامعہ عثمانیہ پشاور۔فتویٰ نمبر: 144164 فتویٰ: روایات کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس قسم کا دھاگہ باندھنا شریعت سے متصادم نہیں۔
دارالافتاء اہلسنت اور مجلس تحقیقاتِ شرعیہ کے نگران کا فتویٰ حضرات صوفیاء کرام کے گنڈے جس میں وہ قرآنی آیات یا ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کر کے گرہ لگاتے ہیں بالکل جائز ہیں۔
دم شدہ شفائیہ دھاگے کے عمل کے حوالہ جات درج ذیل ہیں: (1) آسان عمليات و تعويذات جلد 7، صفحہ 288، ناشر: کتب خانہ انور شاہ کراچی۔ (2) آسان عمليات و تعويذات جلد 5، صفحہ 189، ناشر: کتب خانہ انور شاہ کراچی۔
