عبقری میں ذکر کردہ ”12 ہزار مرتبہ بسم اللہ“ والا وظیفہ من گھڑت تو نہیں۔۔۔؟

سالہا سال سے عبقری میں وظائف شائع ہو رہے ہیں اور یہ تمام وظائف وہ ہوتے ہیں جو کہ ہمارے بڑوں کی کتابوں میں موجود ہیں ان ہی وظائف میں سے ایک وظیفہ بارہ ہزار مرتبہ بسم اللہ پڑھنے والا بھی ہے جو کہ بارہا تسبیح خانہ کے منبر سے بیان کیا جا چکا ہے اور یہ وہ وظیفہ ہے جو کہ دکھ درد کے مارے لوگوں بڑے بڑے دارالافتاؤں سے بھی بتایا جا رہا ہے یقین نہیں آتا تو یہ فتویٰ ضرور ملاحظہ فرمائیں:

سوال: کافی سالوں سے گھر بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر نہیں بک رہا، کیا اس کے لیے کوئی وظیفہ یا عمل مل سکتی ہے؟

جواب: نماز باجماعت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ فجر کی نماز کے بعد سورۂ یٰسین اور مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت صلاۃ الحاجات اور مسنون دعائے حاجات کا اہتمام کریں، سارے مسائل اللہ جل شانہٗ حل فرما دیں گے۔ دعائے حاجات مسنون دعاؤں کی کتاب میں مل جائے گی۔

نیز حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے "اعمالِ قرآنی” میں حاجت روائی کے لیے ایک عمل لکھا ہے جو کہ درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھیں کہ جب ایک ہزار پورے ہو جائیں تو دو رکعت پڑھ کر اپنی حاجت کے لیے دعا کریں، پھر پڑھنا شروع کریں اور ایک ہزار کے بعد پھر اسی طرح دو رکعت پڑھ کے دعا کریں، غرض اسی طرح بارہ ہزار پورے کریں ان شاء اللہ حاجت پوری ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026