عبقری کا عمل خود ساختہ یا مسنون جانیے!
تسبیح خانہ کے منبر سے ایسے اعمال اور وظائف بتائے جاتے ہیں جن کے متعلق کچھ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ خود ساختہ ہیں۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ تسبیح خانہ کا منبر لوگوں کو خود ساختہ اعمال سے متعارف کروا رہا ہے یا مقبول مسنون اعمال کی معطر راہوں پر لے جا رہا ہے؟ شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب حفظہ اللہ نے ایک عمل بتایا کہ نماز میں رکوع کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ پڑھیں تو اس کا ثواب فرشتوں کی ایک جماعت لکھتی ہے۔
آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ اور ثواب والی بات حدیث میں ہے یا نہیں؟ تسبیح خانہ پر فتویٰ لگانے سے پہلے یہ فتویٰ پڑھیں۔
عنوان: ربنا لک الحمد سے متعلق روایت کی تخریج اور ربنا لک الحمد پڑھنے کا حکم (No-105887)
سوال: مفتی صاحب! سنا ہے کہ رکوع کے بعد ربنا ولک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ روایت بخاری شریف میں موجود ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ»
(حدیث نمبر: 799، ج: 1، ص: 159، ط: دار طوق النجاۃ)
ترجمہ: حضرت رفاعہ بن رافع زرقٰیؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو ایک شخص نے (باآوازِ بلند) (ربنا ولک الحمد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ) پڑھا جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ وہ شخص بولا: میں نے فرمایا: ”میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون انہیں پہلے لکھے۔
ربنا لك الحمد پڑھنے کا حکم:
مستند حوالہ جات:
صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 789، 157/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ – قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ.
وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 722، 145/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، وَأَقِيمُوا الصَّفَّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ إِقَامَةَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ
وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 796، 158/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
وفيه أيضا: (رقم الحدیث: 795، 157/1، ط: دار طوق النجاة) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ.
مجمع الأنهر: (96/1، ط: دار إحياء التراث العربي) واختلفت الأخبار في لفظ التحميد ففي بعضها اللهم ربنا لك الحمد وفي بعضها ربنا لك الحمد، وفي بعضها ربنا ولك الحمد، وفي بعضها اللهم ربنا ولك الحمد، والأول أفضل والثاني المشهور في كتب الحديث وهو الصحيح
تبيين الحقائق: (116/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية) وقد اختلفت الأخبار في لفظ التحميد فقال في بعضها اللهم ربنا لك الحمد، وفي بعضها ربنا ولك الحمد، وقال في المحيط: ربنا لك الحمد أفضل لزيادة الثناء، وقال الفقيه أبو جعفر : لا فرق بين قولك ربنا لك الحمد وبين قولك ربنا ولك الحمد، واختلفوا في هذه الواو قيل هي زائدة وقيل هي عاطفة تقديره ربنا حمدناك ولك الحمد قال رحمه الله
البحر الرائق: (335/1، ط: دار الكتاب الإسلامي) والمراد بالتحميد واحد من أربعة ألفاظ : أفضلها : اللهم ربنا ولك الحمد كما في المجتبى ويليه : اللهم ربنا لك الحمد، ويليه : ربنا ولك الحمد، ويليه المعروف: ربنا لك الحمد، فما في المحيط من أفضلية الثاني فمحمول على أفضليته على ما بعده لا على الكل كما لا يخفى لما صرحوا به من أن زيادة الواو توجب الأفضلية واختلفوا فيها: فقيل زائدة، وقيل: عاطفة تقديره ربنا حمدناك ولك الحمد
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء، دارالاخلاص، کراچی
