کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری میں شیخ ابو الحسن شاذلیؒ کا ایک زبردست عمل شائع ہوا کہ اگر سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا ہو تو بسم اللہ حروفِ مقطعات کی صورت میں اور اس کے بعد ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ لکھ کر دھو کر پلائیں، زہر اتر جائے گا اور مریض صحت یاب ہو جائے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں عبقری میں دیئے جانے والے وظائف کی کوئی سند نہیں ہوتی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ درج بالا عمل کے متعلق مزید تین جلیل القدر علماء و اولیائے کرام کے کیا تاثرات ہیں؟
امام ابو القاسم قشیریؒ (مکتبہ شافعیہ) لکھتے ہیں کہ: جس شخص کو سانپ اور بچھو سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، وہ صبح و شام یہ آیت ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو محفوظ رہے گا۔
(بحوالہ التفسیر القشیری المعروف بہ لطائف الاشارات فی تفسیر القرآن ناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
علامہ کمال الدین دمیریؒ فرماتے ہیں کہ: سانپ اور بچھو نے حضرت نوحؑ سے وعدہ کیا تھا کہ جو شخص آپؐ کا نام لے گا، ہم اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ لہٰذا ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ سانپ اور بچھو سے حفاظت کے لئے اکسیر المجرب ہے۔
(بحوالہ: حیات الحیوان، احکامِ تعویذات صفحہ 39، مصنف: مفتی محمد ہاشم خان مدنی (مکتبہ بریلویہ) ناشر: مکتبہ بہارِ شریعت داتا دربار لاہور۔)
حضرت علامہ ابو محمد عبداللہ یافعی یمنیؒ (مکتبہ حنفیہ) لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بچھو کے لئے ”سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ“ پڑھ لے تو اس کی ایذاء سے بچا رہے گا۔
(بحوالہ کتاب: اسرارِ رحمانی صفحہ 219، مترجم: مولانا رحیم بخش صاحب دہلوی ناشر: مشتاق بک کارنر اردو بازار لاہور۔)
