چند برس پہلے ماہنامہ عبقری میں خیر و برکت پانے کیلئے ایک مجرب وظیفہ شائع ہوا۔
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ اَحْمَدٌ رَّسُوْلُ الله
اس پر چند لاعلم لوگوں کی طرف سے ایک بے بنیاد اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ تو قادیانیوں کا کلمہ ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ اوّل بات تو یہ ہے کہ مرزائی قادیانی یہ کلمہ نہیں پڑھتے۔ دوم یہ کہ جب ہم اپنے اکابرین رحمۃ اللہ علیہم کی مستند کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک وظیفے کو
[1] حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ نے زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے بیان کیا۔
دیکھئے کتاب ”فضائلِ درود شریف“، صفحہ 50 ناشر: کتب خانہ فیضی لاہور
[2] یہی عمل محدثِ کبیر، محقق العصر علامہ انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے رزق میں برکت کیلئے اپنے تمام متعلقین کو عنایت فرمایا۔
دیکھئے کتاب ”گنجینۂ اسرار“، صفحہ 29، ناشر: ادارہ اسلامیات، 190 انارکلی لاہور
[3] یہی وظیفہ شہنشاہِ عملیات، ابو العباس، شیخ احمد علی بونی رحمۃ اللہ علیہ نے ولایت کے اعلیٰ مقامات پانے کیلئے اپنے ہزاروں مریدین کو عطا کیا۔
دیکھئے کتاب ”شمس المعارف“، صفحہ 34 ناشر: شبیر برادرز، لاہور
[4] یہی عمل حضرت الامام علامہ کمال الدین دمیری رحمۃ اللہ علیہ نے گناہوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ”حیات الحیوان“ میں بیان کیا۔
دیکھئے کتاب ”حیات الحیوان“ ص 128 ناشر: مکتبہ الحسن، حق اسٹریٹ، اردو بازار لاہور
[5] اسی عمل کو زبدۃ المحدثین نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ نے جنات سے حفاظت کیلئے اکسیر المجرب کہا ہے۔
دیکھئے کتاب: الداء والدواء صفحہ 110 ناشر: مشتاق بک کارنر، الکریم مارکیٹ، اردو بازار لاہور
ان کے علاوہ متعدد علمائے کرام و مشائخِ عظام نے اس عمل کو سراہا اور اپنے معمولات کا حصہ بنایا ہے۔ جن میں مولانا ابو المظفر ظفر احمد قادری (مصنف: شرعی علاج ص 161)، مولانا حافظ محمد اقبال قریشی (مصنف: وظائف الصالحین ص 165)، مفتی احمد الرحمٰن کے صاحبزادے مولانا عزیز الرحمٰن رحمانی (مصنف: شفاء و رحمت ص 265)، مولانا محمد اسحاق ملتانی (مصنف: مجرباتِ اکابر ص 304) اور مولانا اعجاز احمد سنگھانوی (مصنف: آسان عملیات و تعویذات) جیسی معتبر شخصیات سرِفہرست ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے یہ تمام اکابرین (نعوذ باللہ) مرزائی تھے؟ کیا انہوں نے مسلمانوں کو راہِ راست سے گمراہ کرنے کا حلف اٹھایا ہوا تھا؟ کیا یہ وظیفہ اس وقت کا نہیں؟ جب ابھی مرزا قادیانی کا وجود ہی نہیں تھا؟
محترم قارئین! ہمیں اپنے اکابرین کے ایمان میں کیوں شک پیدا ہو گیا ہے؟ جن کی مساعی کے صدقے ہم تک ایمان اعمال والی زندگی پہنچی۔ کیا آج کے فتنوں بھرے دور میں ہم ان سے بڑے محقق اور مجدد بن چکے ہیں۔
کیا یہ سچ نہیں کہ ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ انہی اکابرینِ امت کے آزمودہ وظائف و عملیات کو آپ تک پہنچانے کا فریضہ نبھا رہا ہے؟ اس میں عبقری کی کونسی اپنی اختراع، ایجاد، نئی تحقیق یا من گھڑت ترتیب ہے؟ کیا یہ سب وظائف ہمارے اکابر کی زندگی میں روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں ہیں؟ اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر قصور کس کا ہے؟ اعتراض کرنے والے لاعلم لوگوں کا یا علم و عمل کے پہاڑ اکابرینِ امت کا۔۔۔۔۔؟؟؟
