دارالعلوم انڈیا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا قمر عثمانی دامت برکاتہم لکھتے ہیں: عرب کے شہر تریم میں ایک پردیسی عامل آیا جو جنات سے کام لیا کرتا تھا، جو لوگ اس کی باتوں کو اہمیت نہ دیتے وہ انہیں اپنے جنات کے ذریعے تکلیف پہنچایا کرتا۔ اس لیے دُنیا دار لوگ اس کے ہاں آنے جانے لگے۔ مدینہ منورہ میں حضرت سید علوی رحمۃ اللہ علیہ نامی ایک بزرگ تھے جن کی شہرت کا چرچا کالے جادوگر تک پہنچا۔ تو اس نے انہیں اپنے ہاں طلب کرنے کے سو جتن کیے مگر ناکام رہا۔ ایک دن اس نے کئی لوگوں کی موجودگی میں حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کو برا بھلا کہا، تو اسی مجلس میں موجود ایک شخص عیسیٰ بن حرم نے اٹھ کر اس جادوگر کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور کہا: ”ہم جن کے سامنے بولنے کی جرات نہیں کر سکتے، تجھ جیسا خبیث آدمی ان کو گالی دیتا ہے؟“
چنانچہ بعد میں عیسیٰ بن حرم کو خوف محسوس ہوا کہ میں نے جو کالے جادوگر کو تھپڑ مارا ہے، کہیں اس کا بدلہ وہ جنات کے ذریعے نہ لے۔ لہٰذا وہ حضرت شیخ سید علوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مدینہ منورہ جا پہنچا، جو اس وقت مسجد نبوی ﷺ شریف میں نوافل ادا کر رہے تھے۔ اس نے ساری بات ان کے گوش گزار کی تو انہوں نے فرمایا: ”ان شاء اللہ وہ جادوگر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ تم آزادی سے زندگی بسر کرو۔“ لیکن عیسیٰ بن حرم کا دل مطمئن نہ ہوا تو اس کے دل کا خوف بھانپتے ہوئے شیخ علوی رحمۃ اللہ علیہ اٹھے اور ایک دروازے کی طرف گئے۔ اسے ہلایا تو وہاں سے پرندے جیسی ایک آواز آئی۔ پھر دوسرے دروازے کی طرف گئے، وہاں سے بھی یہی آواز آئی۔ واپس آکر فرمانے لگے وہ جادوگر اپنے 2 جنات کے ذریعے لوگوں کو تکلیف پہنچاتا تھا، میں نے انہیں قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا اب مطمئن ہو جاؤ۔ یہ سن کر عیسیٰ بن حرم کا دل خوش ہو گیا اور اس نے باقی لوگوں کو بھی جا کر یہ واقعہ سنایا۔ کالے جادوگر کو جب اپنے جنات کی ہلاکت کا پتہ چلا تو وہ شہر چھوڑ کر ہی بھاگ گیا۔
(بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے، صفحہ 170 ناشر محبوب بک ڈپو، یوپی انڈیا)
حلال حرام، جائز ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!