کچھ عرصہ قبل دنیا بھر کے ہر دلعزیز رسالہ ماہنامہ عبقری میں عقیق پتھر کی انگوٹھی پہننے کا ذکر آیا تو چند ایک ناواقف یا سطحی علم رکھنے والے حضرات یہ کہنے لگے کہ اس پتھر کی انگوٹھی تو شریعت میں بالکل حرام ہے۔۔۔! ذیل میں اکابر کے چند حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جن سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اللہ کریم کے فضل سے عبقری کا ایک ایک عمل قرآن و سنت اور اکابر کی طرز کے سو فیصد موافق ہے۔
(1) انگوٹھی میں قیمتی پتھر عقیق یا یاقوت اور ہیرے وغیرہ کا لگانا درست ہے قال فی الدرالمختار:
فیجوز من حجر و عقیق و یاقوت و غیرہا۔ (الدرالمختار مع الشامی: ج9 ص519) (فتاویٰ دارالعلوم)
(2) علامہ خالد سیف اللہ رحمانی صاحب لکھتے ہیں کہ شمس الائمہ علامہ سرخسیؒ اور علامہ قاضی خان وغیرہ نے پتھر جیسے عقیق وغیرہ کی انگوٹھی پہننے کو مباح قرار دیا ہے۔ (قاموس الفقہ ج3 ص323)
(3) آپ ﷺ کی انگوٹھی کا نگینہ عقیق پتھر کا کالے رنگ میں تھا۔ (جمع الوسائل 138)
(4) چاندی کے حلقہ میں عقیق پتھر کا نگینہ مسنون ہے۔ (عمدۃ القاری جلد 22 ص34)
(5) مفتی ارشاد احمد قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے پاس بھی عقیق پتھر کی انگوٹھی تھی۔ (شمائلِ کبریٰ جلد2، ص343)
(6) شرعۃ الاسلام کے حوالہ سے ہے کہ چاندی اور عقیق کا نگینہ سنت ہے۔ اس جیسا کوئی پتھر نہیں۔ (جمع الوسائل ص140 بحوالہ شمائلِ کبریٰ ص351)
(7) آپ ﷺ نے حضرت بلالؓ کو بازار سے عقیق کی انگوٹھی خریدنے کا فرمایا۔ (مجمع الزوائد، ص158)
(8) علامہ محمد یونس پالنپوری صاحب دامت برکاتہم ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ عقیق، یاقوت وغیرہ پتھر انگوٹھی میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ (بکھرے موتی ج5 ص480)
(9) مولانا الیاس گھمن صاحب فرماتے ہیں کہ چاندی کی انگوٹھی میں کسی بھی دھات یا پتھر کا استعمال کی اجازت ہے اگرچہ وہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو۔ (زبدۃ الشمائل ص75)
(10) ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اکثر علماء کی رائے ہے کہ انگوٹھی میں یاقوت وغیرہ پتھر لگا کر پہننا جائز ہے۔ (انگوٹھی پہننے کا حکم)
(11) شیخ محمد سعید عمران سلفی فرماتے ہیں کہ احناف کا مسلک یہ ہے کہ مرد کو اپنی انگوٹھی میں عقیق، فیروزہ یا پھر یاقوت وغیرہ کا نگینہ لگانا جائز ہے۔ (محدث فارم)
(12) حالتِ احرام میں انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ (فتاویٰ ابن باز)
(13) حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔ (صحیح مسلم)
(14) امام بیہقیؒ شعب الایمان میں اس روایت پر کہتے ہیں: یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ کے پاس انگوٹھیاں تھیں جن میں ایک میں حبشہ کا نگ لگا تھا۔
(15) فضیلۃ الشیخ عبدالصمد ریالوی حفظہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتے کہ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ وہ نگینہ جزع یا عقیق کا تھا کیونکہ ان دونوں پتھروں کی دھاتیں حبشہ اور یمن میں پائی جاتی تھیں۔ دوسری روایت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ فصہ من عقیق یعنی نگینہ عقیق کا تھا۔ (خصائلِ نبوی ص 238 ناشر: انصار السنہ لاہور)
(16) شیخ محمد فواد عبدالباقیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ علماء کہتے ہیں حبشی پتھر تھا یعنی نگِ سنگِ مرمر یا عقیق کا تھا اور کہا جاتا ہے کالا تھا جیسے حبشی ہوتے ہیں۔ (شرح ترمذی)
(17) حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور نگینہ حبشی عقیق کا تھا۔ (غنیۃ الطالبین 78)
(18) ملا علی قاری حنفیؒ فرماتے ہیں کہ حبشیوں کی طرح اس پتھر کا رنگ بھی کالا تھا۔ (جمع الوسائل)
جی ہاں عبقری میں ذکر کردہ ایک ایک بات کے پیچھے اکابر کی سند موجود ہے۔
