عبقری میں شائع ہونے والے تہدیدی نامہ مبارک کی علمی اور سندی حیثیت

ماہنامہ عبقری میں شائع کردہ اور ہزاروں لوگوں کو جنات سے نجات دلانے والا ”تہدیدی نامہ مبارک“ یعنی حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا وہ خط جو انہیں حضور ﷺ کی طرف سے جنات کے نام ملا تھا اور جب انہوں نے وہ خط (تعویذ) اپنے تکیے میں رکھا تو ان کے گھر سے جنات بھاگ گئے۔ ہمارے اکابر و اسلاف میں ایسی بے شمار ہستیاں گزری ہیں، جنہوں نے اس نبوی تعویذ کے ذریعے مخلوقِ خدا کو فیض پہنچایا۔ مثلاً شیخ الحدیث علامہ انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اپنی کتاب ”گنجینۂ اسرار“ ناشر: ادارہ اسلامیات میں بیان کیا ہے۔ مولانا محمد اسحاق ملتانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”مجرباتِ اکابر“ ناشر: تالیفاتِ اشرفیہ میں لکھا ہے۔ مولانا ابوالمظفر ظفر احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”شرعی علاج“ ناشر: سیف اللہ اختر آف بلوکی میں بیان کیا ہے۔ مولانا لیاقت علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”دعائیں“ ناشر: گاباسنز کراچی میں بیان کیا ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا تھانویؒ نے بہشتی زیور میں لکھا ہے۔ مولانا محمد قطب الدین دہلویؒ نے ظفر جلیل شرح حصنِ حصین میں حرزِ ابی دجانہؓ کا ذکر کیا ہے۔ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے تجلیاتِ صفدر میں نقل کیا ہے۔ حضرت تھانویؒ نے اسے نہایت مجرب فرمایا ہے۔ آئیں اب دیکھتے ہیں کہ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے جاری کردہ ماہنامہ ”بینات“ میں اس تعویذ کی کیا سند بیان کی گئی ہے۔ حوالے کیلئے دیکھیں ”ماہنامہ بینات کراچی نومبر 2018 صفحہ 35 تا 47 ناشر: جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن، کراچی)

علامہ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”دلائل النبوۃ“ میں ”حرزِ ابی دجانہؓ“ کے نام سے ایک روایت نقل کی ہے کہ: حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنات کی طرف سے ایذاء رسانی کی شکایت کی، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنات کے نام ایک خط لکھوا کر انہیں دیا۔ وہ رات کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سو گئے اور جنات کی عجیب و غریب حالت دیکھی۔ جس کا ذکر اس روایت میں موجود ہے۔ اس طرح وہ جنات کے شر سے محفوظ ہو گئے۔ اب بھی لوگ جنات کے شر سے حفاظت کی غرض سے اس خط کو اپنے گھروں، دکانوں وغیرہ میں رکھتے ہیں۔

ذیل میں اس روایت کی تحقیق درج ہے کہ کیا ”دلائل النبوۃ“ والی مذکورہ روایت (حرزِ ابی دجانہؓ) من گھڑت ہے؟ یا ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کے علاوہ دیگر کتب میں دوسری سند سے مروی روایت موضوع ہے؟ واضح رہے کہ روایتِ حرزِ ابی دجانہؓ دو مختلف سندوں سے مروی ہے: ایک کو علامہ سیوطیؒ نے ”اللآلی المصنوعۃ“ میں موسیٰ نامی راوی کے طریق سے نقل کر کے اسے موضوع قرار دیا ہے، اور وہ تقریباً بالاتفاق موضوع ہے، اس روایت سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ آخر میں بمع سند کے ذکر کر دی جائے گی، چنانچہ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں: موضوع وإسناده مقطوع وأكثر رجاله مجهولون وليس في الصحابةؓ من اسمه موسى أصلاً۔ (1)

جبکہ دوسری سند سے مروی روایت کو علامہ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ”دلائل النبوۃ“ میں ذکر کرنے کے بعد اس کا تابع بھی بتایا ہے، اور موضوعروایت کی طرف اشارہ بھی فرمایا ہے۔ یہ روایت پہلی روایت سے سنداً تو مکمل مختلف ہے، متناً بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ”دلائل النبوۃ“ میں روایتِ حرزِ ابی دجانہؓ کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

”تابَعَهُ أَبُو بَكْرٍ الإِسْمَاعِيلِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَيْرٍ الرَّازِيِّ الحَافِظِ عَنْ أَبِي دُجَانَةَ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ هَذَا، وَقَدْ رُوِيَ فِي حِرْزِ أَبِي دُجَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِيثٌ طَوِيلٌ، وَهُوَ مَوْضُوعٌ لَا تَحِلُّ رِوَايَتُهُ۔“ (2) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی اسی روایت کو علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ”الخصائص الکبریٰ“ میں ذکر کرنے کے بعد اس پر کوئی کلام اور تبصرہ نہیں کیا، جبکہ یہ صراحت بھی کی ہے کہ اس کی تخریج امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے، اگر یہ روایت ان کے ہاں موضوع ہوتی، تو ضرور اس کی تصریح کرتے، جیسا کہ ”اللآلی المصنوعۃ“ میں درج روایت کو نقل کرنے کے بعد اُسے واضح الفاظ میں موضوع قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بیہقیؒ کی روایت ان کے نزدیک موضوع نہیں ہے، چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”باب فیہ ذکر حرز الجن المعروف بحرز أبی دجانۃؓ : أخرج البیہقی عن أبی دجانۃؓ قال: شکوت إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔“ (3) ”دلائل النبوۃ“ والی روایت ذکر کرتے ہوئے، اور اُسے ضعیف قرار دیتے ہوئے ائمہ نے اس بات کی صراحت بھی کی ہے کہ یہ روایت جس کو علامہ بیہقیؒ نے ذکر کیا ہے، اس روایت کے علاوہ ہے جسے علامہ سیوطیؒ نے ”اللآلی المصنوعۃ“ میں ذکر کیا ہے، جو کہ موضوع ہے، چنانچہ حافظ ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں: سماک بن خرشۃ۔۔۔۔۔۔ وإسناد حدیثہ فی الحرز المنسوب إلیہ ضعیف۔ (4)

ابو سعد عبدالملک بن محمد نیسابوری خرکوشیؒ فرماتے ہیں:

”أخرجہ البیہقی فی الدلائل، وقد اشترط ألا یخرج الموضوع وما لا أصل لہ، قال البیہقی عقبہ: وقد روی فی حرز أبی دجانۃؓ حدیث طویل وہو موضوع لا تحل روایتہ، فدل علی أن ما أوردہ بخلاف ذلک، واللہ أعلم۔“ (5)

علامہ ابن الاثیر جزریؒ فرماتے ہیں: ”سماك بن خرشة: سماك بن خرشة، وقيل: سماك بن أوس بن خرشة بن لوذان بن عبد ود بن زيد بن ثعلبة بن الخزرج بن ساعدة بن كعب بن الخزرج الأنصاري الساعدي، أبو دجانةؓ، وهو مشهور بكنيته وأما الحرز المنسوب إليه فإسناده ضعيف۔“ (6)

ابن القطان فاسیؒ فرماتے ہیں:

”(ابن الجوزی) وفي سندہ انقطاع إذ ليس في الصحابةؓ من اسمه موسى أصلاً وأكثر رجاله مجهولون (تعقب) بأن البيهقي أخرجه في الدلائل (قلت) يعني من طريق آخر بمخالفة لهذا بالزيادة والنقص، ثم قال البيهقي: وقد روي في حرز أبي دجانةؓ حديث طويل وهو موضوع لا تحل روايته، انتهى، ونقل القرطبي في المفهم عن ابن عبد البرؓ أنه قال: حديث أبي دجانةؓ في الحرز المنسوب إليه فيه ضعف وكأنه يعني رواية البيهقي، والله تعالى أعلم۔“ (4) قال المحشی: ”بل رواية البيهقي موضوعة أيضاً قطعاً۔“

محشی عبداللہ محمد صدیق غماری صاحب کا اس روایت کو موضوع قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اول تو انہوں نے کوئی دلیل ذکر نہیں کی، بغیر دلیل کے ان کی بات قابلِ قبول نہیں۔ اور اگر انہوں نے علی بن محمد الحمادی راوی پر امام حاکم اور دیگر حضرات کے کلام کی وجہ سے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے تو اس کی پوری تفصیل آ رہی ہے، یعنی اس راوی پر کلام کی وجہ سے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کو موضوع نہیں کہا جا سکتا۔ اور اگر اس روایت میں مذکورہ مجاہیلِ روات کی وجہ سے موضوع کہا ہے تو بھی قواعد اور اصول کی رُو سے درست نہیں، کیونکہ کسی مجہول راوی کی وجہ سے حدیث پر وضع کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

”دلائل النبوۃ“ والی روایت کی اسنادی حیثیت:

علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے موسیٰ نامی راوی کے طریق سے جس روایت کو ذکر کیا ہے، وہ تقریباً سب کے ہاں موضوع ہے۔ البتہ ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کی سند میں تفصیل یہ ہے کہ ابتدائی دو راویوں کے علاوہ حضرت ابو دجانہ صحابی رضی اللہ عنہ تک سلسلۂ سند ”رواية الآباء عن الأبناء“ ہے۔ ابتدائی دو راویوں میں پہلا راوی ثقہ ہے، صحیح بخاری کا راوی ہے، اس پر کوئی کلام نہیں، البتہ دوسرا راوی متکلم فیہ ہے، امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ اس راوی پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”سمعت مسعود بن علی يقول: سألت الحاكم أبا عبد الله عن أبي أحمد الحبيبي، فقال: كان يكذب مثل السكر، فقلت: الحسنوي خير أم الحبيبي؟ فقال الحسنوي أحسن منه حالاً۔“ (8)

علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے اتباع میں مذکورہ راوی کی طرف کذب کی نسبت کی ہے، چنانچہ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قال الحاکم: یکذب مثل السکر، الحسنوی أحسن حالا منہ۔“ (9)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”كذبه أبو عبد الله الحاكم۔۔۔۔ وقال الحاكم أيضاً: كان يكذب، وكان الحسنوي أحسن حالاً منه۔“ (10)

اس کے علاوہ بعض دیگر ائمہ سے بھی اس پر جرح ثابت ہے، مگر ان کی جرح اس درجے کے نہیں جس سے روایت پر وضع کا حکم لگایا جا سکے۔

چنانچہ علامہ دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”وأما الحبيبي، فهو عبد الرحمن بن محمد الحبيبي المروزی، وعلى بن محمد الحبيبي ابن عمه، يحدثان بنسخ وأحاديث مناكير۔“ (11)

سوالاتِ حمزہ بن یوسف سہمی میں ہے: ”وسألت أبا زرعة أحمد بن الحسين الرازی بالكوفة عن أبي أحمد على بن محمد بن حبيب المروزی، فقال: ضعيف جداً۔“ (12)

مذکورہ راوی علی بن محمد المروزی الحمادی کی صحت اور ضعف کا اصل دارومدار امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر ہے، کیونکہ یہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ اور ان کے ہم عصر ہیں، اس لیے اس بارے میں ان کے قول کا اعتبار کیا جائے گا۔ باقی جن ائمہ سے اس پر جرح منقول ہے، امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ ان کے اور اس راوی کے زمانے میں کافی بعد ہے، اور انہوں نے بھی اصل مدار امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو ہی قرار دیا ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس راوی پر جرح کرتے ہوئے اسے ”کذّاب“ کہا ہے، یعنی اس راوی پر ان سے جرح مفسر ثابت ہے، اور اکیلا ان الفاظ سے جرح مفسر کی صورت میں کسی روایت کو موضوع بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن یہاں پر اگر اس اصل کو جاری کیا جائے، تو پھر ”المستدرک علی الصحیحین“ والی روایت کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ جبکہ اسی راوی کے ہوتے ہوئے اسے ”صحیح الاسناد“ بھی کہا ہے، صرف وہ نہیں، علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے ”صحیح غریب“ کہا ہے، حالانکہ جس روایت کی سند میں اگر کوئی راوی کذاب ہو، تو اصول و قواعد کی رو سے اسے موضوع قرار دیا جاتا ہے، مگر یہاں پر اس کے برعکس امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ”صحیح الاسناد والمتن“ اور ”صحیح غریب“ کہا ہے، اس لیے روایتِ حرزِ ابی دجانہؓ کو مذکورہ راوی علی بن محمد الحمادی پر کلام کی وجہ سے موضوع قرار دینا درست نہیں، جبکہ دیگر بعض ائمہ نے بھی اسے ضعیف یا سندِ ضعیف سے مروی روایت کہا ہے، ورنہ پھر ”المستدرک علی الصحیحین“ والی روایت کو بھی موضوع کہنا پڑے گا، چنانچہ ”المستدرک علی الصحیحین“ میں امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”حدثنا علی بن محمد الحمادی بمرو، ثنا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم السرخسی، ثنا عبد الرحمن بنعلقمة المروزي، ثنا عبد الله بن المبارك، عن شعبة، ومسعر، عن عمرو بن مرة، عن أبي البختري، عن علي رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لجبريل عليه الصلاة والسلام: من يهاجر معي؟ قال: أبو بكر الصديقؓ۔ ”هذا حديث صحيح الإسناد والمتن ولم يخرجاه۔“ (13)

اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کے بارے میں ”صحیح غریب“ کہا ہے۔ اب یہاں پر اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ حدیث کی سند میں جس راوی کا ذکر ہے واقعی وہ ہی راوی ہے، جس پر امام حاکمؒ نے جرح کی ہے یا کوئی اور ہے؟ تو اس بارے میں تفصیل یہ ہے کہ حمادی نسبت کے دو شخص ہیں: ایک کا نام قاضی ابو الحسن الحمادی ہے، جبکہ دوسرے کا نام علی بن محمد بن عبد اللہ الحمادی ہے، یہ دوسرے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ ہیں، جن سے مستدرک میں روایت بھی ذکر کی ہے، اور جن پر جرح بھی کی ہے۔

چنانچہ ابو بکر محمد بن موسیٰ الحازمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”باب الحمادي، والحمادي: الأول من ولد حماد بن زيد وهو القاضي أبو الحسن الحمادي۔۔۔۔۔۔ والثاني ينسب إلى جده وهو علي بن محمد بن عبد الله الحمادي من أهل مرو، سمع محمد بن موسى بن حماد وغيره، روى عنه الحاكم أبو عبد الله الضبي۔“ (14)

محمد بن عبد الغنی ابن نقطہ حنبلی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”وأما الحمادي بفتح الحاء المهملة والميم المشددة أيضاً وبعد الألف دال مهملة مكسورة فهو أبو أحمد على بن محمد بن عبيد الله الحمادي حدث عن محمد بن موسى بن حاتم الباشاني وصالح بن محمد جزرة في آخرين حدث عنه الحاكم أبو عبد الله في تاريخ نيسابور۔“ (15)

ابن الاثیر الجزری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”قلت: فاته النسبة إلى حماد بن زيد واشتهر بها القاضي أبو الحسن الحمادي روى عن الفتح بن شخرف۔ وفاته أيضاً علی بن محمد بن عبد الله المروزي الحمادي سمع محمد بن موسى بن حماد وغيره وروى عنه الحاكم أبو عبد الله۔“ (16)

ان دو راویوں کے علاوہ مذکورہ سند میں جتنے راوی ہیں سب مجاہیل ہیں، سوائے ابو دجانہ صحابیؓ کے، کافی تلاش کے بعد کہیں پر ان کا ذکر نہیں ملا۔ ان مجاہیل راویوں میں سے ہر ایک راوی مجہول العین ہے۔ واضح رہے کہ مجہول اور اس کے حکم میں محدثین اور احناف کا اختلاف ہے: احناف کے ہاں مجہول راوی کی روایت کا حکم یہ ہے کہ اگر صدرِ اول یعنی قرونِ ثلاثہ کا راوی ہو، تو اس کی روایت مقبول ہوگی، ورنہ نہیں۔ (17) جبکہ محدثین کے ہاں مجہول کی اقسامِ ثلاثہ (ان کے نزدیک) میں سے مجہول العین راوی کی روایت کے حکم کے بارے میں تین قول ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ: مجہول العین کی روایت مطلقاً مقبول ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ: مطلقاً غیر مقبول ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ نے اکثر اہل علم کا اس پر اتفاق نقل کیا ہے، بعض کا اس میں بھی اختلاف ہے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ: اس سے روایت کرنے والا اگر صرف ثقات سے روایت کرنے کا عادی ہو، تو مقبول ہوگی، ورنہ نہیں۔ لہذا اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت احناف کے ہاں مطلقاً اور محدثین کے ایک قول۔ جو کہ محقق ہے۔ کے مطابق غیر مقبول ہے، یعنی اس میں توقف اختیار کیا جائے گا، جب تک مذکورہ مجاہیلِ روات کی توثیق یا عدمِ توثیق ظاہر نہ ہو، اس وقت تک یہ روایت غیر مقبول ہوگی۔ (18)

غیر مقبول ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ وہ موضوع ہے۔ اس لیے مذکورہ مجاہیل راویوں کی وجہ سے روایتِ حرزِ ابی دجانہؓ کو موضوع کہنا درست نہیں ہے۔ اب یہ امر قابلِ غور ہے کہ قواعد کی رو سے تو یہ روایت احناف اور محدثین کے نزدیک غیر مقبول ثابت ہوئی، مگر ان روات کے ہوتے ہوئے بعض ائمہ حدیث، جن میں حافظ ابن عبد البرؒ، ابن الاثیر الجزریؒ، ابو سعد عبدالملک بن محمد النیسابوریؒ اور ابن القطانؒ جیسے ائمہ حدیث حضرات شامل ہیں، انہوں نے صراحت کے ساتھ ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کو ضعیف یا سندِ ضعیف سے مروی روایت توکہا ہے، موضوع نہیں کہا۔ جو تفصیل اور قواعد آج ہمارے سامنے موجود ہیں، یقیناً یہ سب کچھ ان کے سامنے بھی موجود تھا، مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کو موضوع نہیں کہا۔ ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کو کسی نے بھی صراحت کے ساتھ موضوع نہیں کہا، جس کسی نے بھی اس روایت کو ذکر کیا، اس نے یا تو سکوت اختیار کیا ہے یا واضح الفاظ میں اُسے ضعیف یا ضعیف الاسناد کہا ہے، البتہ ”الخصائص الکبریٰ“ والی روایت کو واضح الفاظ میں موضوع قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اس باب میں کلام کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے، چنانچہ استاذ نور الدین عتر صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”غيرَ أَنَّهُ لما كان العهد قد بعد برجال الأسانيد فإنه يجب الاحتياط الشديد في هذا الأمر، ولا يظن ظان أنه من السهولة بحيث يكتفى فيه بتقليب كتب في الرجال، كما يتوهم بعض الناس، حتى قد يتجرأ على مخالفة الأئمة فيما حققوه وقرروه، بل يجب أن يوضع في الحسبان كافة احتمالات الوهن والنقد في السند والمتن، ثم لا يكون الحكم جازماً، بل هو حكم على الظاهر الذي تبدى لنا۔“ (19)

باقی علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں یزید بن صالح کے ترجمہ میں غلام خلیل۔ جس کا نام احمد بن محمد بن غالب البغدادی ہے۔ کے بارے میں جو فرمایا ہے کہ: انہوں نے یزید بن صالح کے طریق سے حرزِ ابی دجانہؓ۔ جو کہ مکذوب ہے۔ نقل کیا ہے، جسے حافظ ابن حجرؒ نے بھی من گھڑت قرار دیا ہے۔ سند کے صحیح ہونے کے باوجود بھی علامہ ذہبیؒ نے اسے موضوع قرار دیا ہے، کیا اس سے مراد ”دلائل النبوۃ“ والی روایت ہے یا اس کی وجہ سے ”دلائل النبوۃ“ والی روایت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

اس کی وجہ سے ”دلائل النبوۃ“ والی روایت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی وہ اس سے مراد لی جا سکتی ہے دو وجہ سے: پہلی وجہ یہ ہے کہ ”دلائل النبوۃ“ کی روایت میں احمد بن محمد بن غالب البغدادی المعروف بہ غلام خلیل اور شعبہ کے نام کا کوئی راوی موجود نہیں ہے، یعنی وہ غلام خلیل کے طریق سے مروی نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ علامہ ذہبیؒ نے ”بسند صحیح“ کہہ کر یہ صراحت کر دی کہ غلام خلیل کے طریق سے حرزِ مکذوب صحیح سند سے منقول ہے، جبکہ ”دلائل النبوۃ“ کی روایت سندِ صحیح سے منقول نہیں ہے، اس لیے یہاں پر حرزِ مکذوب سے مراد ”دلائل النبوۃ“ کی روایت نہیں لی جا سکتی۔ نیز اگر علامہ ذہبیؒ کی مراد اس سے ”دلائل النبوۃ“ والی روایت ہوتی، تو اس کی تصریح ضرور فرماتے، مگر انہوں نے اس طرف التفات ہی نہیں فرمایا۔ دونوں حضرات علامہ ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ کے کلاموں کو بالترتیب نقل کیا جاتا ہے، چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ”يزيد بن صالح الذي روى عنه غلام خليل حرز أبي دجانةؓ، وهو حرز مكذوب، كأنه من صنعة غلام خليل، يرويه عنه شعبة بقلة حياء بسند الصحيح۔“ (20)

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”يزيد بن صالح: الذي روى عنه غلام خليل: حرز أبي دجانةؓ وهو حرز مكذوب كأنه من صنعة غلام خليل، يرويه عن شعبة بقلة حياء بسند الصحيح، انتهى۔ وهذا إن كان غلام خليل اختلق المتن فلعله دلس الإسناد فأوهم أن شيخه فيه يزيد بن صالح الفراء المذكور بعد۔“ (21)

”دلائل النبوۃ“ کی روایت:

اب اس کے بعد ”دلائل النبوۃ“ والی روایت ملاحظہ ہو، چنانچہ امام بیہقیؒ فرماتے ہیں:

”أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي، قال: حدثنا أبو أحمد علي بن أحمد بن محمد بن عبد الله الحبيبي المروزي، قال: أخبرنا أبو دجانةؓ، محمد بن أحمد بن سلمة بن يحيى بن سلمة بن عبد الله بن زيد بن خالد بن أبي دجانةؓ، واسم أبي دجانةؓ سماك بن أوس بن خرشة بن لوذان الأنصاري أملاه علينا بمكة في مسجد الحرام بباب الصفا سنة خمس وسبعين ومائتين، وكان مخضوب اللحية۔ قال: حدثني أبي أحمد بن سلمة قال: حدثنا أبي سلمة بن يحيى، قال: حدثنا أبي يحيى بن سلمة، قال: حدثنا أبي سلمة بن عبد الله، قال: حدثنا أبي عبد الله بن زيد بن خالد قال: حدثنا أبي زيد بن خالد قال: حدثنا أبي خالد بن أبي دجانةؓ، قال: سمعت أبي أبا دجانةؓ يقول: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! بينما أنا مضطجع في فراشي، إذ سمعت في داري صريرًا كصرير الرحى، ودويًّا كدوي النحل، ولمعًا كلمع البرق، فرفعت رأسي فزعًا مرعوبًا، فإذا أنا بظل أسود مولي يعلو، ويطول في صحن داري فأهويت إليه فمسست جلده، فإذا جلده كجلد القنفذ، فرمى في وجهي مثل شرر النار، فظننت أنه قد أحرقني، (وأحرق داري) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عامرك عامر سوء يا أبا دجانة! ورب الكعبة! ومثلك يؤذى يا أبا دجانة! ثم قال: ائتوني بدواة وقرطاس، فأتى بهما فناوله علي بن أبي طالب وقال: اكتب يا أبا الحسن! فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ رَبِّ الْعَالَمِينَ صلى الله عليه وسلم، إِلَى مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ، وَالزُّوَّارِ، وَالصَّالِحِينَ، إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ! أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّ لَنَا، وَلَكُمْ فِي الْحَقِّ سَعَةً، فَإِنْ تَكُ عَاشِقًا مُولَعًا، أَوْ فَاجِرًا مُقْتَحِمًا أَوْ رَاغِبًا حَقًّا أَوْ مُبْطِلًا، هَذَا كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ، إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ، وَرُسُلُنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ، اتْرُكُوا صَاحِبَ كِتَابِي هَذَا، وَانْطَلِقُوا إِلَى عَبَدَةِ الأَصْنَامِ، وَإِلَى مَنْ يَزْعُمُ أَنَّ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلا وَجْهَهُ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔ يُغْلَبُونَ حم لا يُنْصَرُونَ، حم عسق، تَفَرَّقَ أَعْدَاءُ اللَّهِ، وَبَلَغَتْ حُجَّةُ اللَّهِ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”۔۔۔ قال أبو دجانةؓ: فأخذت الكتاب فأدرجته وحملته إلى داري، وجعلته تحت رأسي وبت ليلتي فما انتبهت إلا من صراخ صارخ يقول: يا أبا دجانة! أحرقتنا، واللات والعزى، الكلمات بحق صاحبك لما رفعت عنا هذا الكتاب، فلا عود لنا في دارك، وقال غيره في أذاك، ولا في جوارك، ولا في موضع يكون فيه هذا الكتاب۔ قال أبو دجانةؓ: فقلت لا، وحق صاحبي رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أرفعه حتى أستأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ قال أبو دجانةؓ: فلقد طالت علي ليلتي بما سمعت من أنين الجن وصراخهم وبكائهم، حتى أصبحت فغدوت، فصليت الصبح مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخبرته بما سمعت من الجن ليلتي، وما قلت لهم۔ فقال لي: يا أبا دجانة! ارفع عن القوم، فوالذي بعثني بالحق نبيًّا إنهم ليجدون ألم العذاب إلى يوم القيامة۔ تابعه أبو بكر الإسماعيلي، عن أبي بكر محمد بن عمير الرازي الحافظ عن أبي دجانة محمد بن أحمد هذا، وقد روي في حرز أبي دجانةؓ حديث طويل، وهو موضوع لا تحل روايته۔“ (22)

”اللآلی المصنوعۃ“ کی روایت:

ذیل میں امام سیوطیؒ کی ”اللآلی المصنوعۃ“ والی روایت اور امام بیہقیؒ کی ”دلائل النبوۃ“ والی روایت، دونوں بمع ان کی سندوں کے ذکر کی آپ کی فراہم کردہ تصویر کا انتہائی گہرائی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس فائل کا نام 129 p7.jpg تسلیم کرتے ہوئے، نیچے پورے صفحے کا لفظ بہ لفظ اور عین مطابق (Exact) عربی و اردو متن حاضر ہے:

جاتی ہیں، چنانچہ علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں: ”(أخبرنا) هبة الله بن أحمد الجريري أنبأنا إبراهيم بن عمر البرمكي أنبأنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن خلف بن نجيب حدثنا يحيى أبو يعلى عن حمزة بن محمد بن شهاب العكبري حدثنا أبي حدثنا إبراهيم بن مهدي الأيلي حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب أبو محمد الخوارزمي حدثني محمد بن بكر البصري حدثنا محمد بن أدهم القرشي عن إبراهيم عن موسى الأنصاري عن أبيه قال: شكى أبو دجانة الأنصاريؓ إلى رسول الله فقال: يا رسول الله! بينا أنا البارحة نائم إذ فتحت، فإذا عند رأسي شيطان فجعل يعلوه ويطول، فضربت بيدي إليه فإذا جلده القنفذ، فقال رسول الله: ومثلك يؤذى يا أبا دجانة! عامرك دارك عامر سوء ورب الكعبة! ادع لي علي بن أبي طالب فدعاه يا أبا الحسن! اكتب لأبي دجانة الأنصاري كتاباً لا شيء يؤذيه من بعده، فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْعَرَبِيِّ الأُمِّيِّ التِّهَامِيِّ الأَبْطَحِيِّ الْمَكِّيِّ الْمَدَنِيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ صَاحِبِ التَّاجِ وَالْهِرَاوَةِ وَالْقَضِيبِ وَالنَّاقَةِ وَالْقُرْآنِ وَالْقِبْلَةِ صَاحِبِ قَوْلِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ إِلَى مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الزُّوَّارِ وَالْعُمَّارِ إِلا طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْحَقِّ سَعَةً فَإِنْ يَكُنْ عَاشِقاً مُولَعاً أَوْ مُؤْذِياً مُقْتَحِماً أَوْ فَاجِراً مُجْتَهِراً أَوْ مُدَّعِي حَقٍّ مُبْطِلاً فَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ يَنْطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ وَرُسُلُهُ لَدَيْكُمْ يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ، اتْرُكُوا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ وَانْطَلِقُوا إِلَى عَبَدَةِ الأَوْثَانِ إِلَى مَنْ اتَّخَذَ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ، لا إِلَهَ إِلا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلا تَنْتَصِرَانِ فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ فَيَوْمَئِذٍ لا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلا جَانٌّ، ثم طوى الكتاب، فقال: ضعه عند رأسك فوضعه فإذا هم ينادون النار النار أحرقتنا بالنار والله ما أردناك ولا طلبنا أذاك ولكن زائر زارنا فطرق فارفع الكتاب عنا، فقال والذي نفس محمد بيده لا أرفعه عنكم حتى أستأذن رسول الله فأخبره فقال: ارفع عنهم، فإن عادوا بالسيئة فعد عليهم بالعذاب، فوالدي نفس محمد بيده ما دخلت هذه الأسماء داراً ولا موضعاً ولا منزلاً إلا هرب إبلیس وذريته وجنوده والغاوون۔“

موضوع: وإسناده مقطوع وأكثر رجاله مجاهيل وليس في الصحابةؓ من اسمه موسى أصلاً۔“ (23)

مذکورہ بالا روایت کی سند میں موسیٰ نامی راوی کے بارے میں حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: ”موسیٰ الأنصاری شخص کذاب، أو اختلقه بعض الکذابین، قال أبو الفرج بن الجوزی فی الموضوعات۔ بعد أن ساق حرز أبي دجانةؓ، من طريق محمد بن أدهم القرشی، عن إبراهيم بن موسى الأنصاری، عن أبيه ۔۔۔ بطوله: هذا حديث موضوع، وإسناده منقطع، وليس في الصحابةؓ من اسمه موسى، وأکثر رجاله مجاهيل۔“ (24)

علامہ محمد طاہر پٹنیؒ فرماتے ہیں:

”حدیث حرز أبی دجانةؓ فیہ مجاهيل، قلت: أخرجه البيهقي في الدلائل۔ الصغاني حرز أبي دجانةؓ واسمه سماك بن خرشة موضوع۔ وفي اللآلئ عن موسى الأنصاري شكى أبو دجانة الأنصاري فقال: يا رسول الله! بينا أنا البارحة نائم إذ فتحت عيني، فإذا عند رأسي شيطان فجعل يعلو ويطول فضربت بيدي إليه، فإذا جلده كجلد القنفذ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ومثلك يؤذى يا أبا دجانة! عامرك عامر سوء ورب الكعبة ادع لى على بن أبى طالب فدعاه، فقال: يا أبا الحسن! اكتب لأبى دجانةؓ كتاباً لا شىء يؤذيه من بعده فقال: وما أكتب؟ قال: اكتب:

”بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ التِّهَامِيِّ الأَبْطَحِيِّ الْمَكِّيِّ الْمَدَنِيِّ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِيِّ صَاحِبِ التَّاجِ وَالْهِرَاوَةِ وَالْقَضِيبِ وَالنَّاقَةِ وَالْقُرْآنِ وَالْقِبْلَةِ صَاحِبِ قَوْلِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ إِلَى مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الزُّوَّارِ وَالْعُمَّارِ إِلا طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْرٍ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ لَنَا وَلَكُمْ فِي الْحَقِّ سَعَةً، فَإِنْ يَكُنْ عَاشِقاً مُولَعاً أَوْ مُؤْذِياً مُقْتَحِماً أَوْ فَاجِراً يُجْهِرُ أَوْ مُدَّعِياً مُحِقّاً أَوْ مُبْطِلاً فَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ يَنْطِقُ عَلَيْنَا وَعَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ، وَرُسُلُنَا لَدَيْنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ، اتْرُكُوا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ وَانْطَلِقُوا إِلَى عَبَدَةِ الأَوْثَانِ إِلَى مَنْ اتَّخَذَ مَعَ اللَّهِ إِلَهاً آخَرَ لا إِلَهَ إِلا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلا تَنْتَصِرَانِ فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ فَيَوْمَئِذٍ لا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلا جَانٌّ ثم طوى الكتاب فقال: ضعه عند رأسك فوضعه فإذا هم ينادون النار النار أحرقتنا بالنار والله ما أردناك ولا طلبنا أذاك ولكن زائر زارنا وطرق فارفع عنا الكتاب، فقال: والذي نفس محمد بيده لا أرفعه عنكم حتى أستأذنه صلى الله عليه وسلم، فلما أصبح أخبره صلى الله عليه وسلم فقال: ارفع عنهم، فإن عادوا بالسيئة فعد إليهم بالعذاب، فوالذي نفس محمد بيده ما دخلت هذه الأسماء داراً ولا موضعاً ولا منزلاً إلا هرب إبليس وجنوده وذريته والغاوون۔ موضوع وإسناده مقطوع وأكثر رجاله مجهولون وليس في الصحابةؓ من يسمى بموسى أصلاً۔“ (۲۵)

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ ثابت ہو گیا کہ ”دلائل النبوۃ“ کی روایت کو جس طرح مطلقاً صحیح کہنا درست نہیں، اسی طرح اسے مطلقاً موضوع کہنا بھی درست نہیں، البتہ حرزِ ابی دجانہؓ سے متعلق ”اللآلی المصنوعۃ“ میں موسیٰ نامی راوی سے منقول روایت کو ائمہ نے واضح الفاظ میں موضوع قرار دیا ہے، جبکہ ”دلائل النبوۃ“ والی روایت کے بارے میں یہ صراحت نہیں ملتی۔ مجاہیل راویوں کے ہوتے ہوئے اُسے ضعیف قرار دیا گیا ہے، اس لیے ائمہ کی تصریح کے بعد ہم اسے موضوع نہیں کہہ سکتے۔ یہ ساری تفصیل جو آج ہمارے سامنے ہے، یقیناً ان کے سامنے بھی موجود تھی، مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے اسے موضوع نہیں کہا، بلکہ ضعیف کہا ہے، اس لیے کسی حدیثِ مبارک پر کلام کرنے میں غایت درجے کی احتیاط کی ضرورت ہے۔ حضرت تھانویؒ نے اسے نہایت مجرب فرمایا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026