محترم قارئین! یہ بات ہر وقت یاد رکھنے کی ہے کہ دین عقل کا نام نہیں، نقل کا نام ہے۔ یعنی صدیوں سے ہمارے اکابر و اسلاف سے جو باتیں نقل ہوتی چلی آ رہی ہیں، ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی نابینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے۔ عبقری میگزین کے کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ میں شائع ہونے والے سچے واقعات سے ملتی جلتی باتیں ہمارے اکابر و اسلاف کی کتب میں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلافِ شریعت کہہ کر رَد کر دیتا ہے۔ حالانکہ جنات، انسانوں پر اتنا زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں کہ اس بات کا انکار کرنے والوں کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔
مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن ہمارے دادا مولانا عبدالمجید سوہدروی صاحب نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہے، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے ان کی اس بات پر شک کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا: جب قرآن و حدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں جو آپ کو کھانا بھی کھلائیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا۔
(بحوالہ کتاب: کراماتِ اہلحدیث، صفحہ 131 ناشر: مسلم پبلیکیشنز سوہدرہ)
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شیخ ابونضر شعرانیؒ نے حضرت حماد بن شعیبؒ سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنتِ نبوی ﷺ پر زیادہ کاربند ہو، وہ قومِ جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔
(بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 144 ناشر: مکتبہ برکات المدینہ، بہادر آباد کراچی)
مولانا محمد الیاس عطار قادری صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابومیسرہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علاثہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنوئیں کا جھگڑا لے کر آئے۔ میں نے ان کی گفتگو سنی۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اس کنوئیں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروبِ آفتاب سے لے کر طلوعِ فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگر کوئی انسان غروبِ آفتاب کے بعد کنوئیں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا۔
(بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہل سنت صفحہ 82 ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی)
