امام المفسرین علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔ تفسیر جلالین ہر دینی مدرسے کے نصاب میں داخل ہے۔ حسن المحاضرہ میں آپؒ خود فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے مجھے سات علوم یعنی تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی، بیان اور بدیع میں کمال عطا فرمایا ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں نے آبِ زم زم پیا اور دعا مانگی کہ علم فقہ میں مجھے علامہ بلقینیؒ اور حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانیؒ کا مرتبہ مل جائے۔ چنانچہ آپؒ کی تصانیف اور علمی کمال اس بات کا شاہد ہے کہ آپؒ کی یہ دعا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی۔ محترم قارئین! اگلے صفحے پر موجود واقعہ پڑھ کے خود فیصلہ کریں کہ گزشتہ زمانے کے اتنے بڑے عالم دین، تقریباً دو لاکھ احادیثِ نبویہ ﷺ کے حافظ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ بھلا جنات کے متعلق من گھڑت باتیں بیان کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے؟ کیا انہیں ساری زندگی یہ پتہ نہیں چل سکا کہ انسانی زندگی میں جنات کا عمل دخل صرف ایک دیو مالائی کہانی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں! یا حقیقت اس کے برعکس ہے اور وقت کے جلیل القدر محدث اور مفسر پر یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ جنات کا بھی ایک مکمل وجود ہے اور سورج، چاند، آکسیجن، سردی، گرمی، بخار، کینسر، ہیپاٹائٹس جیسی دیگر مخلوقات کی طرح جنات بھی انسان پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کتاب میں کس طرح امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جنات کی ملاقات کا ثبوت پیش کیا ہے۔
