ہوشیار کہیں کوئی جن آپ کو اغواء نہ کر لے

جو لوگ اپنے مطالعے اور معلومات کی کمی کا شکار ہو کر یہ کہتے ہیں کہ جنات کی اغواء کاریوں کا ذکر ماہنامہ عبقری کے سوا کہیں نہیں ملتا۔ انہیں چاہئے کہ چاروں مکاتبِ فکر میں گزرنے والے اکابر و اسلافؒ کی کتب اٹھائیں اور دیکھیں کہ یہ تمام واقعات ہمارے اکابر و اسلافؒ ہی کے ذریعے صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ مثلاً

مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں: ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو ان کو جنات نے اغواء کر لیا اور کئی سال تک غائب رکھا۔ پھر وہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے تفصیل پوچھی۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے جنات پکڑ کر لے گئے تھے اور میں ایک زمانہ تک ان کے پاس رہا۔ اس کے بعد مسلمان جنات نے (ان جنات کے ساتھ) جہاد کیا اور ان میں سے بہت سے افراد کے ساتھ مجھے بھی قید کر لیا۔ پھر مسلمان جنات نے مجھے اختیار دیا کہ چاہے میں ان کے پاس رہوں یا اپنے اہل و عیال کے پاس چلا جاؤں۔ لہٰذا میں اپنے گھر مدینہ منورہ میں آگیا۔

(النهایہ ج 1 ص 295 بحوالہ کتاب: فیضانِ سنت ص 158 ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی)

جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے لائبریرین اشرف جاوید صاحب (مکتبہ اہل حدیث) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کے سامنے پانی کا ایک تالاب تھا، جس سے عورتیں پانی بھرنے آتی تھیں۔ ایک دن وہاں کسی عورت کو ایک لڑکی نے آواز دی "بھاگ بھری! میں تم سے ملنے آئی ہوں” (حالانکہ آواز دینے والی لڑکی نظر نہیں آرہی تھی) اسی وقت اس عورت کے سر کے بال ایک دوسرے میں سختی سے پیوست ہو گئے اور اس بے چاری کی حالت غیر ہو گئی۔ اس کے گھر والوں نے حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ (بانی جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ضلع فیصل آباد) کے پاس جا کر اسے دم کروایا۔ تب کہیں اس کی تکلیف رفع ہوئی۔

(بحوالہ کتاب: تذکرہ صوفی محمد عبداللہؒ صفحہ 382، مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹیؒ، ناشر: مکتبہ سلفیہ، شیش محل روڈ، لاہور)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ دیوبند) لکھتے ہیں کہ بغداد کا ایک شخص شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: حضور! جنات نے میری بیٹی اٹھا لی ہے ، اس کی واپسی کا کوئی بندوبست فرمائیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: فلاں جگہ جا کر اپنے گرد دائرہ کھینچ لو اور یہ الفاظ پڑھو "بسم اللہ علیٰ نیۃ عبدالقادر” اس نے ایسا ہی کیا تو اس کے سامنے جنات کا بادشاہ آگیا اور پوچھنے لگا کہ تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے اپنا مسئلہ بتایا تو شاہِ جنات نے فوراً اس کی بیٹی کو بازیاب کروایا اور اغواء کرنے والے جن کا سر قلم کر دیا

عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم "جنات کا پیدائشی دوست” کو اپنی عقل پر پرکھنے والے اپنا عقیدہ درست کریں کہ اولیاء اللہ کی کرامات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ جو لوگ خود اس میدان کے شہسوار ہیں، ان کیلئے تو ایسے ماوراء العقل واقعات روزمرہ معمول کا حصہ ہیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026