تحریر: مفتی عبدالرؤف رحیمی جامعہ مجددیہ نواب شاہ
- سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ کا واقعہ ہے کہ آپ ایک مرتبہ کاندھلہ تشریف لے گئے اور ایک مرید کے ہاں قیام ہوا۔ اس مکان میں چند جنات بھی رہائش پذیر تھے۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ نے حسبِ معمول تہجد کے بعد وظائف پڑھنے شروع کئے تو یکدم ایک شخص سامنے آگیا اور کہا کہ حضرت میں جن ہوں اور میں نے آپ کے ساتھ حج بھی کیا ہے۔حضرت رحمۃ اللہ نے یہ سن کر اسے نصیحت کی، جس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جن اس جگہ سے چلا گیا۔
- ایک شخص نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ سے جنات کے متعلق شکایت کی کہ بہت پریشان کرتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ یہ میرا جوتا لے جاؤ۔ آپ کے جوتے کی برکت سے وہ جن چلا گیا۔
- حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ کو رامپور کے ایک صاحب نے درخواست کی کہ حضرت میری صاحبزادی پر جن کا اثر ہے۔ اس پر حضرت نے جن کے نام ایک خط تحریر فرمایا:از جانب اشرف علی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بعد حمد و صلوٰۃ کے جو جن اس لڑکی پر ہے اگر وہ مومن ہے تو اس وجہ سے کہ سب مومن آپس میں بھائی ہیں۔ بھائی ہونے کے واسطے سے میری درخواست ہے کہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے اس کو چھوڑ دے کیونکہ کسی کو ایذا دینا خصوصاً مومن کو ایذا دینا سخت گناہ اور مواخذہ کا فعل ہے۔ اگر اسکو ایذا نہ ہو تو اس کے دوسرے عزیزوں کو سخت تکلیف ہے اور اگر مومن نہیں ہے تو اولاً اس سے درخواست صلح کی ہے اور اگر صلح منظور نہیں تو اسماء الٰہیہ سے علاج کیا جائیگا۔حضرت کے اس خط کی برکت سے بھی وہ لڑکی صحیح ہو گئی اور جنات کے شرور سے مامون ہو گئی۔
- حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ نے اپنے ملفوظات میں یہ واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک مہاجن کی لڑکی پر جن عاشق تھا۔ جو بڑا سرکش و ظالم تھا۔ جو بھی عامل آتا وہ اسے چپت ابھار کر اس میں دیا دیتا۔ کسی نے اس مہاجن سے بطورِ مذاق کہہ دیا کہ فلاں مسجد کا موذن بہت بڑا عامل ہے۔ وہ مہاجن اس بے چارے موذن کو جا لپٹا۔ اب یہ موذن ہر چند قسم کھائے کہ میں عامل نہیں ہوں اور وہ خوشامد کرتا ہوا پاؤں میں گرتا ہے۔ خیر اس نے کہا اچھا میں چلتا ہوں کیا دو گے؟ اس نے کہا پانچ سو روپے دوں گا۔ موذن نے سوچا کام بن گیا تو بڑی راحت ہوگی ورنہ اس ناداری و پریشانی کی زندگی سے مر جانا ہی بہتر ہے۔بسم اللہ پڑھ کر متاثرہ مکان میں داخل ہوا تو جن نے نہایت زور سے ڈانٹا کہ کیسے آیا ہے؟ یہ ہاتھ جوڑ کر قدموں میں گر گیا کہ حضور کی رعیت کا جولا ہا ہوں ایک جاہل اور غریب آدمی ہوں مجبوری کو چلا آیا ہوں اگر حضور پانچ منٹ کیلئے اس لڑکی سے جدا ہو جائیں تو مجھے پانچ سو روپے مل جائیں گے اور حضور کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ یہ سن کر جن نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا ہم تیری خاطر ہمیشہ کیلئے جاتے ہیں تو اس طرح عاجزی کی بدولت اس موذن کی عمر بھر کی کمائی کا ذریعہ بن گیا۔
اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں جن سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندگانِ خاص یعنی اہل علم و تقویٰ کو دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچاتے ہیں اور ان پر اپنی نصرتِ خاص متوجہ فرما دیتے ہیں۔
