مولانا صاحب! عبقری میں شائع ہونے والے کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں کئی ایسی چیزیں ہیں جو قرآن و حدیث سے ہٹ کر ہیں، تو کیا ہمیں یہ مضمون پڑھنا چاہئے اور کیا اس میں دیے گئے وظائف کو استعمال میں لانا چاہئے (سائل: ریحان یعقوب، تاندلہ منڈی)
جواب: محترم بھائی! حیرت ہے کہ ”کچھ لوگ“ یہ تو کہہ رہے ہیں کہ اس کالم میں کئی چیزیں قرآن و حدیث سے ”ہٹ کر“ ہیں، مگر ان کئی چیزوں میں سے آج تک کسی ایک چیز کی بھی نشاندہی نہیں کر سکے کہ کون سا وظیفہ یا کون سا عمل قرآن و حدیث سے ہٹ کر ہے؟ مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ جنات سے ملاقات ہونا قرآن و حدیث سے ہٹ کر ہے تو اس سلسلے میں کئی احادیث موجود ہیں، جن میں خود حضور ﷺ کی اور کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنات سے ملاقات کا ثبوت موجود ہے۔ اگر آپ اس کالم میں دیے جانے والے وظائف کو قرآن و حدیث سے ہٹ کر کہتے ہیں، تو اس سلسلے میں بھی ہمیں شریعت سے متواتر دلائل ملتے ہیں کہ صرف وہ دَم اور وہ وظیفہ اور وہ تعویذ، جس میں شرک ہو، حرام اور ناجائز ہے، اس کے علاوہ باقی تمام وظائف پڑھنا تو عاجز و لاچار بندے کی بندگی کا عین تقاضا ہے۔
بھلا آج تک انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ میں ایسی کون سی ہستی گزری ہے جنہوں نے وظیفہ پڑھے بغیر زندگی گزاری ہو؟ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام مشہور انبیاء کی ان دعاؤں کا ذکر ہے، جو وہ وظیفے کے طور پر پڑھتے تھے۔ احادیث میں حضور ﷺ کے پسندیدہ وظیفے کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو ”یا حی یا قیوم“ پڑھنے کی کثرت فرماتے۔ ”جنات کا پیدائشی دوست“ کالم میں آپ کوئی ایک وظیفہ دکھائیں، جس کے ذریعے غیر اللہ سے مدد مانگی گئی ہو؟ اگر تمام وظائف کے ذریعے اللہ ہی کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے اور محض اسی وحدہٗ لاشریک لہٗ سے مدد مانگی جا رہی ہے تو اس میں کسی کو کیا اعتراض؟ قرآن و حدیث میں لوگوں کا غیر اللہ سے رُخ بدل کر اللہ جل شانہٗ کی طرف موڑا گیا ہے، اور یہی کام حضرت علامہ لاہوتی صاحب پراسراری دامت برکاتہم اپنے کالم کے ذریعے انجام دے رہے ہیں، کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو فلاں وظیفے کے ذریعے اللہ کی مدد حاصل کرو، انسانوں سے خطرہ ہو یا جنات سے، زمین پر مسئلہ حل کروانا ہو یا آسمان پر بات منوانی ہو، ان وظائف اور ان اعمال کو زندگی کا حصہ بناؤ، جو ہمارے اکابر و اسلاف کے ذریعے صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔
