حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالفضل بن جوہری رحمۃ اللہ علیہ مصر میں علم اور ولایت کا دروازہ تھے۔ امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”روض الریاحین“ میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ ابوالفضل جوہری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق سنا تو ان کی زیارت کیلئے مصر پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو قیمتی لباس پہنے ایک حسین و جمیل شیخ جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ کیا اللہ والے ایسے ہوتے ہیں؟ لہٰذا میں انہیں اسی حال میں چھوڑ کر واپس چل پڑا۔ اتنے میں مصر کی گلی سے ایک عورت واویلا کرتی ہوئی میرے سامنے آئی اور کہنے لگی: حضور! میں نے بڑی مشکل اور حفاظت سے اپنی بیٹی کو پال کر جوان کیا اور پھر ایک نیک اور باصلاحیت جوان کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ آج رات اس کی رخصتی ہونی تھی، مگر اس پر جن کا عارضہ ہو گیا ہے اور اس کی عقل ماری گئی ہے۔ میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو ایک خوبصورت لڑکی تکلیف کی وجہ سے دائیں بائیں گھور رہی تھی۔ میں نے اس کے سامنے مختلف قرأتوں میں قرآن پاک کی دس آیات پڑھیں تو اس کے اندر سے جن بولنے لگا، جس کی باتیں دوسرے گھر والوں نے بھی سنیں۔
وہ کہنے لگا: اے شیخ ! تجھے خبر نہیں کہ ہم 70 جنات ہیں اور سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ تو نے تو شیخ ابوالفضل جوہری رحمۃ اللہ علیہ کو ظاہری وضع قطع سے حقیر سمجھا ہے، مگر ہم ان کا اکرام کرتے ہیں۔ آج ہم سب مصر میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے آئے تو یہاں سے گزرتے ہوئے اس لڑکی نے ہم پر نجاست پھینک دی۔ میرے باقی دوست تو بچ گئے، مگر میرا جسم ناپاک ہو گیا اور میں اس شیخِ کامل رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے نماز پڑھنے سے محروم رہ گیا۔ لہٰذا میں نے اسی غصے کی وجہ سے اس کے دماغ پر قبضہ کر لیا ہے۔ شیخ ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: تو پھر میں تجھے انہی شیخ ابوالفضل رحمۃ اللہ علیہ کی حرمت کی قسم دیتا ہوں کہ اس بے چاری لڑکی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جن نے کہا: ٹھیک ہے، میں ان کی خاطر تیری بات مانتا ہوں۔ لہٰذا اس لڑکی کو آرام آ گیا اور اس نے شیخ ابوبکرؒ سے حیا کرتے ہوئے چہرے پر پردہ ڈال لیا۔ لڑکی کی ماں نے انہیں بہت دعائیں دیں اور وہ شیخ ابوالفضل جوہری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق اپنی بدگمانی پر شرمندہ ہوتے ہوئے واپس ان کی محفل میں پہنچے۔ شیخ ابوالفضل رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں دیکھا تو دور سے فرمایا: ہم شیخ ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ کو خوش آمدید کہتے ہیں، جنہوں نے ہمارے متعلق جنات کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کی۔ اس کے بعد شیخ ابوبکر رحمۃ اللہ علیہ نے توبہ کی اور بہت عرصہ ان کی صحبت میں گزارا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اس بات کی توفیق مانگی ہے کہ آئندہ میں نیک لوگوں کی کرامتوں کا انکار نہ کر سکوں۔
بحوالہ کتاب: جمال الاولیاء، صفحہ 659 مصنف: علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ، تلخیص: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ترجمہ مولانا جمیل احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، ناشر: ادارہ اسلامیات انارکلی بازار لاہور
