تسبیح خانہ میں شیرینی تقسیم کر نے کا عمل

تسبیح خانہ میں ابھی کچھ عرصہ قبل لاکھوں سے زائد مرتبہ سورہ اخلاص پڑھوائی گئی اور اس کے بعد شیر ینی تقسیم کی گئی ایک بات یاد رکھیں کہ یہ عمل کوئی دین کا حصہ سمجھ کر یا لازمی سمجھ کر نہیں کیا گیا۔۔۔۔ ہمارے اکا بڑ کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ فلاں عمل کرنے کے بعد اتنی مٹھائی تقسیم کی جائے یا کچھ میٹھا بچوں میں کھلایا جائے اس بات کا تعلق مشاہدے اور عملیات کے فن سے ہے۔ ذیل میں ایک معتمد دارافتاء کا فتوی پیش خدمت ہے جس سے اس شیرینی کے تقسیم کی حقیقت آپ سمجھ جائیں گے۔

سوال: ہر سال ماہ رمضان میں ختم تراویح کے موقع پر مٹھائی، بطور یا دیگر چیزیں تقسیم ہوتی ہیں، یہ کہاں سے ثابت ہیں؟ کیا یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا؟ کیوں کہ اس کو ہر سال پابندی سے منایا جاتا ہے، ٹھیک ہے کہ اس کو دین کا حصہ نہیں سمجھا جاتا لیکن عوام اس کو ضروری تو نہیں سمجھتے؟ کیا صرف اس خیال سے اس کو ترک کرنا کیا صحیح ہے؟ اگر یہ ضروری نہیں تو پھر ہر سال کیوں ہوتا ہے؟

جواب: سنن بیہقی، تاریخ ابن عساکر اور تاریخ ذہبی میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے سورہ بقرہ مکمل یاد کرنے کی خوشی میں ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کی دعوت کی تھی۔ اس واقعہ سے اتنا معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر اس طرح کا کوئی اہتمام کرنا، جب کہ اس کو ضروری اور اور دین کا حصہ نہ سمجھا جائے، شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے۔ اس لیے کہ بدعت اس نئے عمل یا عقیدے کو کہا جاتا ہے جس کو ضروری سمجھ کر دین کا حصہ قرار دے دیا گیا ہو، چونکہ یہ عمل کہیں بھی ضروری اور دین کا حصہ سمجھ کر نہیں کیا جاتا ہے، اس لیے اس عمل پر بدعت کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اگر کہیں پر لوگوں کے اس عمل کو ضروری اور دین کا حصہ سمجھ بیٹھنے کا شبہ ہو تو اس کو ترک کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اس کو ضروری نہ سمجھا جائے اور مسجد یا وقف فنڈ سے اس کا اہتمام نہ ہو تو ختم پر شیرینی وغیرہ تقسیم کی جاسکتی ہے فقط ۔

تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر شیر ینی وغیرہ کی تقسیم فی نفسہ مباح ہے، اگر عمومی چندہ کے بغیر ایک دوا فرادر یاد نمود کے بغیر ،خلوص کے ساتھ اپنی طرف سے تقسیم کر دیں، تو گنجائش ہے، ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کوئی خشک چیز ( مٹھائی وغیرہ ) تقسیم کر دی جائے

اور جتنی بھی شیرینی یا حلوہ تسبیح خانہ میں آیا وہ تمام کا تمام لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا اس میں ایک ایثار اور لوگوں کی خیر خواہی کا بھی سبق تھا.

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025