نفیسہ العلم وا لمعرفہ ۔ سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمۃ اللہ علیہا

نواب سید محمد صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : جامعہ ازہر(مصر) کے علمائے راسخین اور ابرارِ کاملین میں سے شیخ محمد ابو الموا ہب شاذلی کو ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کی زیارت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : سونے سے پہلے پانچ مرتبہ تعوذ، پانچ مرتبہ تسمیہ پڑھ کر ایک مرتبہ یہ دُعا مانگو (اللھم بحق محمد ارنی وجہ محمد حالا و مالا) تو میں خواب میں تمہیں ملنے کیلئے آیا کروں گا۔ لہذا بعد ازاں تمام عمر انہیں کثرت سے زیارت نبویﷺ سے نوازا گیا۔
چنانچہ محمد ابو المواہب شاذلی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ خواب میں مجھے حضور سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تجھے کوئی مشکل پیش آئے تو سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر مان لیا کر، اگرچہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو، تیری مشکل حل ہو جائے گی، ان شاء اللہ۔ میں (نواب صدیق حسن خان ؒ) کہتاں ہوںکہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے ان کی نذر ماننے کے حکم سے مراد یہ ہے کہ کچھ صدقہ ‘خیرات کرکے اس کا ثواب سیدہ نفیسہ طاہرہ کو ہدیہ کر دینا چاہیے۔

حضرت نفیسہ بنت حسن بن زید بن امام حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہا خاندان نبوت ﷺ کی جلیل القدر خاتون‘ زہد و عبادت‘ ورع و تقویٰ اور نیکی و صالحیت کے اونچے مرتبہ پر فائز تھیں۔ ان کی شادی حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے حضرت اسحاق الموتمن کے ساتھ ہوئی۔

سیدہ نفیسہ قرآن مجید کی حافظہ اور اس کی تفسیر پر عبور کرکھتی تھیں۔ آپ ؒ کے علم و فضل کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ امام شافعی آپ کی خدمت میں گئے اور آپ ؒ سے بعض احادیث کی سماعت کا شرف حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے اکثر روتی رہتیں‘ ہمیشہ رات کو قیام کرتیں اور دن کو روزے رکھتیں۔ آپ ؒ نے تیس حج کیے۔ حج کے موقع پر غلاف کعبہ سے لپٹ جاتیں اور دُعا ما نگتے ہوئے یہ الفاظ کہتیں ’’ الھی و سیدی و مولائی متعنی و فر حنی برصاک عنی‘‘ حضرت زینب بنت یحییٰ کہتی ہیں کہ مجھے متواتر چالیس برس اپنی پھوپھی سیدہ نفیسہ کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس ثناء میں کبھی میں نے ان کو شب میں سوتے اور دن میں بغیر روزے کے نہیں دیکھا۔ ایک دن میں نے پوچھا کیا آپ اپنے اوپر ترس نہیں کرتیں؟ کیسے ترس کروں جبکہ میرے سامنے دور تک ایسی خوفناک وادیاں پھیلی ہوئی ہیں ، جنہیں کوئی آرام طلب طے نہیں کر سکتا۔

صوفیائے کرام میں سے حضرت ذوالنون مصری اور حضرت بشر حافی ان کی خدمت میں بالا التزام حاضر ہوا کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت بشر حافی بیمار ہو ئے تو حضرت سیدہ نفیسہ عیادت کیلئے گئیں‘ اس وقت امام احمد بن حنبل بھی وہاں عیادت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ امام احمد بن حنبل نے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہیں؟ جب معلوم ہوا تو حضرت بشر حافی سے فرمانے لگے‘ سیدہ نفیسہ سے میرے لیے بھی دعا کروائیں۔ چنانچہ جب دُعا کی درخواست کی گئی تو آپ نے ان الفاظ میں دُعا مانگی: ’’ اے اللہ بن حارث اور احمد بن حنبل تجھ سے دوزخ کی آگ سے محفوظ رہنے کی التجا کرتے ہیں۔ یا ارحم الراحمین، ان کو دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنا۔

سیدہ نفیسہ دولت مند خاتون تھیں اور آپؒ کا تمام مال دو دولت مریضوں‘ جذامیوں اور حاجت مندوں پر خرچ ہوتا تھا۔ امام شافعی مصر میں گئے تو حضرت نفیسہ نے ان کی مالی امداد کی۔ امام شافعی ان کی زیارت کو گئے تو پردے کی اوٹ میں بات کی۔ا مام شافعی نے ان سے دعا بھی کروائی۔ جب امام شافعی فوت ہوئے اور ان کا جنازہ پڑھا گیا تو حضرت نفیسہ بھی گئیں اور الگ نماز جنازہ ادا کی۔ ایک روایت میں ہے کہ امام شافعی نے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ حضرت سیدہ نفیسہ کے گھر کے سامنے سے لے کر جایا جائے۔ چنانچہ وصیت کے مطابق ان کا جنازہ جب حضرت سیدہ نفیسہ کے گھر کے سامنے پہنچا تو انھوں نے گھر میں ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

کثرت علم و معرفت کی بناء پر لوگ انہیں ’’نفیسۃ العلم و المعر فۃ‘‘ کہا کرتے تھے۔ آپ ؒ فرمایا کرتی تھیں کہ سحری کے وقت لوگوں کی زبانوں سے جو آہوں کی تیر نکلتے ہیں وہ کبھی خطا نہیں جاتے‘ بلکہ ٹھیک نشانے پر بیٹھتے ہیں۔ بالخصوص وہ تیر تو قطعاً خطا نہیں جاتے جو ان کے دلوں سے نکلتے ہیں۔

حضرت سیدہ نفیسہ ؒ نے بیماری کے ایام میں اپنے گھر میں ہی اپنے ہاتھوں سے قبر کھودی۔ روزانہ اس قبر میں اترتیں اور قرآن مجید پڑھتیں۔ اسی قبر میں انہوں نے ایک سو نوے (190)قرآن مجید مکمل کئے۔ وقت موت قریب پہنچا تو آپ ؒ روزے سے تھیں، لوگ ڈرتے ہوئے آئے اور پانی پینے پر مجبور کیا تو لوگوں کے اصرار سے تنگ آکر فرمایا: میں تیس سال سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگ رہی ہوں کہ روزے کی حالت میں اس سے ملوں‘ کیا تم چاہتے ہو‘ اب روزہ چھوڑدوں؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا سورۃ الا نعام کی تلاوت شروع کردی اور جب اس آیت ’’ لَھُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِنْدَ رَبِّھِم‘‘ پر پہنچیں تو روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

انہوں نے بیماری کے ایام میں اپنے شوہر حضرت سید اسحاق الموتمن کو خط لکھ کر اپنے متعلق اطلاع کی ہوئی تھی‘ چنانچہ قدرت الہٰی کہ جس روز ان کی وفات ہوئی‘ اسی دن حضرت اسحاق الموتمن مدینہ طیبہ سے مصر تشریف لے آئے۔ انہوں نے مصر کے لوگوں سے فرمایا کہ میں ان کی میت مدینہ منورہ لے جاکر جنت البقیع میں دفن کرنا چاہتا ہوں۔اہل مصر نے عرض کی کہ آپ ؒ ان کی میت مدینہ منورہ لے جانے کی بجائے یہیں دفن کر دیں۔ مگر سید اسحاق نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور میت کو مدینہ منورہ لے جانے پر ہی اصرار کرتے رہے۔ان کے انکار سے لوگوں کو سخت صدمہ پہنچا۔ انہوں نے اکٹھے ہو کر بہت سارا مال جمع کیا اور جس اونٹ پر وہ مدینہ منورہ سے آئے تھے، اس کی خرجیاں مال و دولت سے بھر دیں‘ تاکہ یہ کسی صورت مان جائیں اور سیدہ کی میت یہیں دفن کر دیں۔ لہٰذا صبح کے وقت سب لوگ جمع ہو کر دوبارہ منت کرنے کیلئے حضرت اسحاق کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ راتوں رات ان کا ارادہ بدل چکا ہے۔ چنانچہ حضرت سید اسحاق فرمانے لگے: مجھے تمہارے مال و دولت کی کوئی حاجت نہیں‘ کیونکہ رات میں نے خواب میں حضور سرور کونین ﷺ کو دیکھا جو مجھے فرمارہے تھے کہ ’’ اہل مصر کا مال انہیں واپس کردو اور نفیسہ کو مصر میں ہی دفن کردو (دوسری روایت میں آیا ہے کہ ) نفیسہ کو مصر میں دفن کردو‘ ان کی برکت سے اہل مصر پر رحمت الٰہی نازل ہوتی رہے گی۔ پس حضرت سیدہ نفیسہ کو اسی قبر میں دفن کیا گیا جو انہوں نے اپنے مکان میں کھودی ہوئی تھی.

اہل مصر کا عقیدہ ہے کہ حضر ت سیدہ نفیسہ کی قبر پر دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور مرادیں برآتی ہیں۔ امام یافعی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے مزار پر عورتوں اور مردوں کا ایک بہت بڑا ہجوم دیکھا اور خود بھی انکی قبر کی زیارت کی۔

(1) 60 باکمال خواتین‘ صفحہ 101 تا 104 مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹی ؒ، ناشر: مکتبۃ الفہیم ، مئو ناتھ بھنجن ، یوپی

(www.KitaboSunnat.com)

(2) معالم العترہ، مصنف: شیخ سلیمان حنفی قندوزی، مفتی اعظم قسطنطنیہ

(www.archive.org/details/Yanabee-ul-Mawadda-113533)

(3) الکواکب السیارہ، مصنف: علامہ الا زہری

(www.urdulib.com)

(4) مشارق الانوار، مصنف : شیخ عبدالرحمن الجہوری

(5) الماثر النفیسہ ، مطبوعہ مصر

(www.urdulib.com)

(6) آل بیت النبی ﷺ فی مصر، صفحہ 104، مجموعہ 1975ء مصنف: شیخ احمد ابوکف ، ناشر : دارالتعاون قاہرہ


(noorlib.ir/en/book/info/31845)

(7) اسعاف الراغبین، نسخہ خطی، صفحہ 81 مصنف : شیخ محمد بن علی صبان۔ ناشر: دار شقرون للنشر التوزیغ، الازہر

(www.muslim-library.com/arabic)

(8) الد ررالنفیسہ فی مناقب و مآ ثر السیدہ نفیسہ ، صفحہ 40

(1) روضۃ الطالب فی اخبار آل ابی طالب، مصنف : سید قمر عباس اعرجی حسینی، ناشر: ادارہ نقابۃ السادات الا شرف ، مانچسٹر

(http://www.rekhta.org/…/rozatut-talib-fee-akhbar-e-aal…)

(2)نور الا بصارفی اھل بیت النبی المختار ﷺ مصنف، سید مومن بن حسن شبلنجی، ناشر : مکتبہ الجمہوریہ العربیہ ، بجوار الا زہر

(mtif.com/book/8281)

(3) منتہی الآ مال ، جلد 2 صفحہ 300، مصنف : شیخ عباس قمی ، مترجم : صفدر حسین نجفی، ناشر : مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور

(archive.org/details/seerat-e-masoomeem)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025