مولانا محمد انور مدظلہ لکھتے ہیں کہ: شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے ایک شاگرد مولانا فراغت علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خاص تعلق تھا۔ وہ انہیں ”میرے چاند“ کہہ کر پکارتے تھے۔ ایک رات ہوا میں ایک روشن دان جا رہا تھا۔ حضرت نے فرمایا: میرے چاند! اگر تم چاہو تو میں اس روشن دان کو نیچے اتار دوں؟ مولانا فراغت علی صاحب نے دلچسپی ظاہر کی تو حضرت نے روشن دان کو حکم دیا، وہ نیچے اتر آیا۔ اس میں ایک پتلا تھا، جس میں سوئیاں چبھی ہوئی تھیں۔ حضرت نے پوچھا: ”تم کون ہو؟“، پتلے میں سے آواز آئی کہ ”میں جادو ہوں۔“
حضرت نے فرمایا: ”میری بات مانو گے یا اپنے جادوگر کی؟“، کہنے لگا: حضرت میں تو آپ کی بات مانوں گا۔ فرمایا: ”میری رائے ہے کہ جہاں سے آئے ہو، وہیں واپس لوٹ جاؤ۔ چنانچہ وہ لوٹ گیا اور بعد میں سنا گیا کہ وہ جادوگر مر گیا ہے۔ حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: ”اس بدبخت نے اس طرح نہ جانے کتنے لوگوں کو ہلاک کیا ہوگا؟“
(بحوالہ کتاب: اکابر کے ایمان افروز واقعات صفحہ 138 ناشر: شعبہ تحقیق و تصنیف، ادارہ اشاعتِ اسلام، کراچی)
جائز ناجائز، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے
