عبقری میں بتائے جانے والے من گھڑت وظائف کا ثبوت نہ قرآن سے ملتا ہے، نہ حدیث سے۔ قارئین یہ ایک ایسا سوال ہے، جو اکثر کم علم حضرات کی طرف سے سب سے زیادہ اٹھایا جاتا ہے۔
اگر ہم مجددِ احناف حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتابوں کا مطالعہ کریں، تو ان میں درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں ایسے وظائف ملتے ہیں، جن کا ثبوت نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ صرف اپنے اکابر کی ترتیب پر اعتماد کرتے ہوئے انہوں نے وہ وظائف اپنے ہزاروں شاگردوں اور مریدوں کو بتائے۔
مثلاً ایک جگہ انہوں نے بصارت کی کمزوری دور کرنے کیلئے ایک وظیفہ لکھا ہے کہ اس آیت کو ہر نماز کے بعد تین مرتبہ پڑھ کے انگلی پر دم کریں اور آنکھوں پر پھیر لیں۔ ان شاء اللہ بصارت میں کمی نہیں ہوگی۔
فَكَشَفْنَا عَنكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ
(بحوالہ کتاب: اعمالِ قرآنی، صفحہ 17، ناشر: تاج کمپنی لمیٹڈ کراچی/ڈھاکہ)
قارئین! اب آپ خود دیکھیں کہ ”سورہ ق“ کی یہ آیت تو قیامت کے ایک منظر کے تناظر میں پیش کی گئی، مگر برسوں پہلے حضرت تھانویؒ نے اسے نظر تیز کرنے کیلئے لکھ ڈالا۔ یہ کیسا دوغلا پن ہے کہ آج یہی عمل اگر عبقری والے شائع کر دیں، تو یہ من گھڑت وظیفہ کہلاتا ہے، اور یہی عمل کسی اور کتاب سے ملے، تو اس کے بیان کرنے والے کو ”حکیم الامت“ کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔ خدارا کچھ تو ہوش کے ناخن لیں۔ پہلے یہ تو سوچیں کہ یہ من گھڑت یا اکسیر المجرب وظائف شروع کہاں سے ہوئے تھے۔ کیا حضرت تھانویؒ کے گھر میں بھی ماہنامہ عبقری لگا ہوا تھا؟؟؟
