سوال: مولانا صاحب! آج کل یوٹیوب پر ایک ویڈیو چل رہی ہے جس پر واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے۔
”روحانی علاج کرنے والے سارے عامل، یا جھوٹے یا پاگل“
یہ ویڈیو دیکھ کر مجھے نہایت ذہنی کوفت ہوئی۔ اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ (سائل: عدنان یوسف، کوئٹہ)
جواب: یہ بات یقیناً اکابر و اسلاف بیزار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ایسی بات کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے۔ یہ بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کی آنکھوں کے سامنے پردہ آ گیا ہو۔ کیونکہ اس لایعنی اور فضول منطق کی زد میں ہمارے وہ تمام اکابر و اسلاف آ جاتے ہیں جن کا تقویٰ اور علم عظمتوں کی بلندی کو چھو رہا ہے۔
ذیل میں ان چند مشہور شخصیات کے نام لکھے جا رہے ہیں جن کے عملیات، تعویذات اور وظائف ابھی تک مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ تمام اکابر عالم، فقیہ اور صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی عامل بھی ہیں۔ اور یہ بات تو قسم اٹھا کر کہی جا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہستی نعوذ باللہ جاہل یا پاگل نہیں تھی۔
(1) پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (2) حضرت علامہ انور شاہ کاشمیریؒ (3) امام الاولیاء مولانا احمد علی لاہوریؒ (4) امام اہلسنت مفتی احمد الرحمن صاحب (5) مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحبؒ (6) مولانا عبدالرؤف ربانی رحیم یار خان (7) حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ (8) قطبِ عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ (9) حضرت مولانا سائیں محمد عالم (10) حضرت مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف والے (11) مولانا عبدالصمد ہالیجوی (12) مولانا مفتی محمد ولی درویش (بنوری ٹاؤن) (13) مولانا اجمل احمد خان لاہوری (14) مفتی عبداللہ صاحب (دوست شاخ والے) (15) مفتی اعظم مولانا ولی حسن خان ٹونکی (بنوری ٹاؤن) (16) حضرت اقدس مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی (اٹک) (17) مناظرِ اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی (18) مناظرِ ختمِ نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی (19) مولانا محمد مسعود ازہر (20) حافظ عبدالقیوم نعمانی (21) مولانا عبدالحمید صاحب (ٹنڈو الہ یار) (22) حضرت چلاسی بابا (ایبٹ آباد) (23) حضرت حاجی فضل رحیم صاحب (24) حاجی محمد فاروق صاحب (سکھر) (25) حاجی عبدالمنان صاحب (مکہ مکرمہ) (26) مفتی محمود الحسن گنگوہی (27) مفتی محمد حسن صاحب (شاہ پور چاکر والے) (28) خواجہ خواجگان خان محمد صاحب (کندیاں شریف) (29) مولانا شمس الرحمن عباسی (کراچی) (30) مولانا عزیز الرحمن ہزاروی (راولپنڈی) (31) پروفیسر عبدالرحمن صدیقی (نوشہرہ) (32) مولانا قاضی مظہر حسین (چکوال) (33) مولانا محمد ادریس انصاری (صادق آباد) (34) مولانا علاء الدین صاحب (جنوبی افریقہ) (35) قاری محمد الیاس صاحب تانجک (36) مفتی کفایت اللہ صاحب (مردان) (37) مولانا قاری سلطان روم صاحب (بنوری ٹاؤن) (38) مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی (39) مولانا سیف اللہ خالد (40) مولانا مفتی محمد وجیہ (41) مولانا عبدالمالک صاحب (گوجرانوالہ) (42) حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن (جنوبی افریقہ) (43) مولانا خالد نعمانی بن حضرت مولانا خلیل الرحمن مظاہری (44) مولانا بدیع الزمان صاحب (بنوری ٹاؤن) ان تمام زندہ و فوت شدگان علماء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔
ان تمام اسمائے گرامی کی تحقیق کیلئے دیکھیں کتاب: شفاء و رحمت، صفحہ 401 مصنف: صاحبزادہ عزیز الرحمن رحمانی، حاشر پبلشرز کراچی
