عبقری میں ذکر کردہ تعویذات کی حیثیت

مولانا صاحب! عبقری میں دم‘ تعویذ اور وظائف کا بکثرت ذکر ملتا ہے‘ لیکن یوٹیوب پر ایک مفتی صاحب تمام وظائف کو ٹوپی ڈرامہ کہتے ہیں‘ اور اس کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص بھی روحانی علاج کرتا ہے وہ فنٹر ہوتا ہے اور اس کا دماغی توازن خراب ہو چکا ہوتا ہے۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں مسکت جواب ارشاد فرمائیں (سائل: مطیع اللہ ثاقب‘ گجرات)

جواب: ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے حلال و حرام، جائز و ناجائز، پاک و ناپاک کے بنیادی اصول بتا دیے گئے ہیں اور ان شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہر شخص کو علاج و معالجہ کرنے کی اجازت ہے‘ جیسے ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک، طب یونانی اور حجامہ وغیرہ۔ ظاہر ہے یہ سب صرف اسباب کے درجے میں ہیں۔ اسی طرح عبقری میں ذکر کردہ دم اور تعویذ بھی ایک طریقہ علاج ہے۔ جس کا ثبوت صحابہ کرامؓ، اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء و صالحین رحمۃ اللہ علیہم کی زندگی میں بکثرت ملتا ہے۔ اس طریقہ علاج کو ٹوپی ڈرامہ اور دماغی توازن خراب ہونے کی دلیل کہنا اتنا بڑا بہتان ہے‘ جو عبقری تک محدود نہیں رہتا‘ بلکہ تمام اکابرین امت‘ علمائے امت اور صلحائے امت تک پہنچتا ہے‘ جہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ذیل میں ایک تعویذ کا عکس آپ کے پیش خدمت ہے‘ جس کے اوپر لکھنے والی عظیم ہستی کا نام بھی موجود ہے۔ اب آپ خود بتائیں کہ اس روحانی علاج کرنے والی ہستی کو آپ فنٹر کہہ سکتے ہیں یا ان کا دماغی توازن خراب ہونا ثابت کر سکتے ہیں؟

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026