ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ پڑھ کر کچھ حضرات اعتراض کرتے ہیں کہ یہ صرف دیومالائی قصے ہیں، جن کا حقیقت سے دور پرے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ حالانکہ یہ بات صرف وہ شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے اکابر و اسلاف سے شناسائی نہ ہو۔ ورنہ اکابرینِ اُمت میں تو علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم جیسی کئی ہستیاں گزری ہیں، جن کے حالات اُس وقت کے لوگوں کیلئے ایک معمہ بنے رہے، مگر ”یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ“ کا عقیدہ رکھنے والے لوگ ہر دور میں یہی کہتے رہے کہ اگرچہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے اللہ کے اس ولی کے ساتھ یقیناً اللہ کا کوئی خاص نظام جڑا ہوا ہے۔ آئیں اسی قسم کا ایک واقعہ پڑھتے ہیں۔
حضرت شیخ محمد شمس الدین حنفی شاذلی رحمۃ اللہ علیہ مصر کے جلیل القدر اولیاء میں سے تھے۔ راہِ طریقت میں ان کا مقام یہ تھا کہ فضاؤں میں اڑنے والے حضرات آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ادب سیکھنے کیلئے حاضر ہوتے، اور پھر واپس ہوا میں اڑنے لگ جاتے۔ لوگ یہ منظر ان کے غائب ہونے تک دیکھتے رہتے۔ سمندروں میں رہنے والے اولیاء سے بھی آپ رحمۃ اللہ علیہ ملاقات کیلئے تشریف لے جاتے اور کپڑوں سمیت سمندر میں اتر جاتے۔ کافی دیر پانی میں رہنے کے بعد جب باہر نکلتے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے کپڑے گیلے نہ ہوتے۔ دریائے نیل میں رہنے والے اولیائے کرام آپ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کو آتے اور لوگ خود انہیں دیکھا کرتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی ام المحاسن رحمۃ اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ دریائی مخلوق ریشمی چادروں اور پاکیزہ کپڑوں میں آئی اور آپ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر اپنے کپڑوں سمیت دریا میں اتر گئی۔ میں نے عرض کی: ابا جان! کیا ان کے کپڑے گیلے نہیں ہوتے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا: یہ پانی میں رہنے والے اولیاء ہیں، ان کی رہائش ہی پانی میں ہے اس لیے ان کے کپڑے خشک رہتے ہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام بھی کئی مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی محفل میں آکر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے دائیں پہلو کی طرف بیٹھ جاتے، جب آپ رحمۃ اللہ علیہ اٹھتے تو وہ بھی تشریف لے جاتے۔
(بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء ص 392 مصنف: علامہ محمد یوسف نبہانی رحمۃ اللہ علیہ ناشر: ضیاء القرآن پبلیکیشنز، اردو بازار لاہور)
