کچھ لوگ اپنی لاعلمی اور کم فہمی کی بدولت کہتے ہیں کہ روحانی علاج کرنے والوں کا دماغ آؤٹ ہو چکا ہوتا ہے اس لیے حقیقت میں "جن” ہوتا نہیں، مگر انہیں نظر آرہا ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس اعتراض کا نشانہ کہاں جا کر لگتا ہے اور اس بے بنیاد عقیدے کی آڑ میں بنیادی طور پر کس عظیم ہستی کی گستاخی کا ارتکاب ہو رہا ہے۔ الشیخ الامام علامہ محمد بن عبداللہ شبلی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ سے جن اتارنے کے واقعات بھی روایات میں موجود ہیں۔ چنانچہ ابو داؤد، مسند احمد اور معجم طبرانی وغیرہ میں یہ حدیث مروی ہے: ام ابان اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ انکے دادا حضرت محمد ﷺ کے پاس اپنے ایک مجنون بیٹے یا بھیجے کو لے گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے اس بیٹے کو جو مجنون ہے، دعاء کیلئے لایا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں آپ ﷺ پاس لے گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اسے مجھ سے قریب کر دو اور اسکی پشت میری طرف کر دو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے کپڑے پکڑ کر اس کی پشت پر مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ مجھے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی۔ آپ ﷺ مارتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ ” اے دشمن خدا نکل”، چنانچہ وہ تھوڑی دیر میں تندرستوں کی طرح دیکھنے لگا۔
(بحوالہ کتاب: آکام المرجان فی احکام الجان ص ۱۱۳ باب ۵۳ ناشر : دار الکتب العلمیہ، بیروت)
آنحضرت ﷺ فرمایا کہ ” بنو عذرہ ” قبلے کا ایک شخص جس کا نام خرافہ تھا، اسے جنات پکڑ کر لے گئے تھے۔ وہ ایک عرصے تک جنات کے درمیان مقیم رہا، پھر وہی اسے انسانوں کے پاس چھوڑ گئے ۔ اب وہ واپس آنے کے بعد عجیب عجیب قصے سنایا کرتا تھا، اس لئے لوگ ( ہر عجیب بات کو خرافہ کا قصہ کہنے لگے.
(حوالہ کتاب: شمائل ترمذی ص ۲۱ باب ما جاء فی کلام رسول الله من فی السحر )
قارئین ! درج بالا احادیث کو غور سے پڑھیں اور دعامانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارا عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق قائم رکھے، کیونکہ جنات کا وجود قرآن مجید سے ثابت ہے اور ان کا انکار کرنا قرآن کی درجنوں آیات کا منکر ہونے تک پہنچادیتا ہے۔
